حدیث نمبر: 21005
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ السَّمَيْدَعُ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْجَوْنِ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ خَوْلَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يُقَدِّسُ اللهُ أُمَّةً، لَا يَأْخُذُ ضَعِيفُها مِنْ قَوِيِّها حَقَّهُ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ،» وَقَالَ: «مَنِ انْصَرَفَ عَنْ غَرِيمِهِ، وَهُوَ رَاضٍ عَنْهُ، صَلَّتَ عَلَيْهِ دَوَابَّ الْأَرْضِ وَنُونَ الْبِحَارِ، وَمَنِ انْصَرَفَ عَنْ غَرِيمِهِ وَهُوَ سَاخِطٌ كُتِبَ عَلَيْهِ، فِي كُلِّ يَوْمٍ، وَلَيْلَةٍ، وَجُمُعَةٍ، وَشَهْرٍ ظَلَمَ»
ترجمہ

سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس امت کو پاکیزہ نہیں فرماتا جس میں کمزور اپنا حق طاقتور سے بغیر کسی رکاوٹ کے نہ لے سکے۔“ اور فرمایا: ”جو شخص اپنے قرض دار سے اس حال میں رخصت ہو کہ وہ اس سے راضی ہو، تو زمین کے جانور اور سمندر کی مچھلیاں اس کے لیے دعا کرتی ہیں، اور جو اپنے قرض دار سے اس حال میں رخصت ہو کہ وہ اس سے ناراض ہو، تو ہر دن، رات، جمعہ اور مہینے میں اس پر ظلم لکھا جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21005
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 248، حدیث 635