کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: مہاجر انصاری کی سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ - وَكَانَتْ مَوْلَاتَهُ - أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَقْتُلُنَّ أَوْلَادَكُنَّ سِرًّا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الْغِيلَ لَيُدْرِكُ الْفَارِسَ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ حَتَّى يَصْرَعُهُ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے - وہ مہاجر انصاری کے والد کی آزاد کردہ باندی تھیں - کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اپنی اولاد کو چپکے سے قتل نہ کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! غیلہ (یعنی دودھ پلانے والی عورت کا حاملہ ہو جانا) سوار کو گھوڑے کی پیٹھ پر بھی جا لیتا ہے یہاں تک کہ اسے گرا دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا، فَإِنَّ الْغَالَّ يُدْرِكُ الْفَارِسَ فَيُدَعْثِرُهُ مِنْ ظَهْرِ فَرَسِهِ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اپنی اولاد کو چپکے سے قتل نہ کرو، کیونکہ غیلہ کا اثر سوار کو جا لیتا ہے اور اسے گھوڑے کی پیٹھ سے گرا دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي جِوَارِ أَتْرَابٍ فَقَالَ: «إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنَعَّمِينَ» وَكُنْتُ أَجْرَأَ عَلَى مَسْأَلَتِهِ مِنْ غَيْرِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا كُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ؟ فَقَالَ: «لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ يَطُولُ أَيْمَتُهَا عِنْدَ أَبَوَيْهَا، ثُمَّ يَرْزُقُهَا اللهُ زَوْجًا، وَيَرْزُقُهَا وَلَدًا ثُمَّ تَغْضَبُ فَتَكْفُرُهَا تَقُولُ وَاللهِ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے اور میں ہم عمر لڑکیوں کے ساتھ تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نعمتوں کی ناشکری سے بچو۔“ اور میں دوسروں کی نسبت آپ ﷺ سے سوال کرنے میں زیادہ دلیر تھی، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! نعمتوں کی ناشکری کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم میں سے کسی کی شادی میں دیر ہو جائے اور وہ اپنے والدین کے ہاں رہے، پھر اللہ اسے شوہر عطا کرے اور اولاد بھی دے، پھر وہ غصے میں آ کر ناشکری کرتے ہوئے کہے: اللہ کی قسم! میں نے تجھ سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَرَكَ دِينَارَيْنِ تَرَكَ كَيَّتَيْنِ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص حق ادا کیے بغیر دو دینار چھوڑ کر مرے، اس نے اپنے لیے آخرت میں دو داغ چھوڑے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ، قَالَتْ: دُعِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا وُضِعَ السَّرِيرُ تَقَدَّمَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّي عَلَيْهِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ: «عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ؟» قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ دِينَارَيْنِ فَقَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ» فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: إِنَّا نَدِينُهُ يَا نَبِيَّ اللهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کو ایک انصاری شخص کے جنازے کے لیے بلایا گیا، جب چارپائی رکھی گئی تو نبی اللہ ﷺ اس پر نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے، پھر پیچھے مڑ کر فرمایا: ”کیا تمہارے ساتھی پر قرض ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، یا رسول اللہ! دو دینار، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی پر خود نماز پڑھ لو۔“ اس پر ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا نبی اللہ! میں اس کا قرض ادا کروں گا، تو آپ ﷺ نے اس پر نماز پڑھائی۔