حدیث نمبر: 20835
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي جِوَارِ أَتْرَابٍ فَقَالَ: «إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنَعَّمِينَ» وَكُنْتُ أَجْرَأَ عَلَى مَسْأَلَتِهِ مِنْ غَيْرِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا كُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ؟ فَقَالَ: «لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ يَطُولُ أَيْمَتُهَا عِنْدَ أَبَوَيْهَا، ثُمَّ يَرْزُقُهَا اللهُ زَوْجًا، وَيَرْزُقُهَا وَلَدًا ثُمَّ تَغْضَبُ فَتَكْفُرُهَا تَقُولُ وَاللهِ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ»
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے اور میں ہم عمر لڑکیوں کے ساتھ تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نعمتوں کی ناشکری سے بچو۔“ اور میں دوسروں کی نسبت آپ ﷺ سے سوال کرنے میں زیادہ دلیر تھی، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! نعمتوں کی ناشکری کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم میں سے کسی کی شادی میں دیر ہو جائے اور وہ اپنے والدین کے ہاں رہے، پھر اللہ اسے شوہر عطا کرے اور اولاد بھی دے، پھر وہ غصے میں آ کر ناشکری کرتے ہوئے کہے: اللہ کی قسم! میں نے تجھ سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20835
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 184، حدیث 464