کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: یزید، ابوعبداللہ شیبانی، کی شہر کے واسطے سے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: ثنا يَزِيدُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّةُ، أَنَّهَا كَانَتْ فِي النِّسْوَةِ اللَّاتِي أَخَذَ عَلَيْهِنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَخَذَ، وَكَانَتْ مَعَهَا خَالَتُهَا عَلَيْهَا خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ وسِوارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَصْرِفُ بَصَرَهُ عَنْهَا، حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَالَ: «مَا هَذِهِ أَيَسُرُّكِ أَنْ يُحَلِّيَكِ اللهُ حُلِيًّا مِنْ نَارٍ؟» قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ النَّارِ، فَنَزَعَتْ خَوَاتِيمَهَا فَرَمَتْ بِهَا بَيْنَ يَدَيْهَا، وَعَالَجَتْ سَوَارِيهَا فَلَمْ تَسْتَطِعْ فَعَمَدَتْ إِلَيْهِ فَقَضَمَتْهُ عَنْهَا، فَرَمَتْ بِهَا فِي مَكَانٍ لَا نَدْرِي مَا فَعَلَ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ نَحْنُ النِّسَاءُ لَا بُدَّ لَنَا أَنْ نَتَزَيَّنَ لِبُعُولَتِنَا، فَأَذِنَ لَنَا فِي خِرْصَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَأَبَى عَلِيَّ، وَقَالَ: «مَا عَلَى إِحْدَاكُنَّ إِلَّا أَنْ تَتَّخِذَ خِرْصَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ، ثُمَّ تَتَّخِذُ شَعْرَتَيْنِ مِنْ زَعْفَرَانٍ فَتَمُرُّ بِهِ بَيْنَ إِصْبِعَيْهَا ثُمَّ تُصَفِّرُهُ فَإِذَا هُوَ مِثْلُ الذَّهَبِ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا ان عورتوں میں شامل تھیں جن سے رسول اللہ ﷺ نے بیعت کا وہی عہد لیا جو دوسری عورتوں سے لیا تھا، اور ان کے ساتھ ان کی خالہ بھی تھیں جن کے ہاتھوں میں سونے کی انگوٹھیاں اور دو سونے کے کنگن تھے، آپ ﷺ اپنی نظر ان سے پھیرتے رہے، یہاں تک کہ جب فارغ ہوئے تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟ کیا تمہیں پسند ہے کہ اللہ تمہیں آگ کے زیور پہنائے؟“ خالہ نے کہا: میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں، چنانچہ انہوں نے اپنی انگوٹھیاں اتار کر اپنے سامنے پھینک دیں، اور اپنے کنگن اتارنے کی کوشش کی مگر نہ اتار سکیں تو انہیں دانتوں سے کاٹ کر اتار دیا اور ایک جگہ پھینک دیں، ہمیں معلوم نہیں کہ ان کا کیا ہوا۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم عورتوں کو اپنے شوہروں کے لیے زینت اختیار کرنا ضروری ہے، تو آپ ﷺ نے ہمیں سونے کی دو بالیوں کی اجازت دے دی لیکن مجھے منع کر دیا اور فرمایا: ”تم میں سے کسی پر بس اتنا ہے کہ وہ چاندی کی دو بالیاں بنا لے، پھر زعفران کے دو ریشے لے کر اپنی انگلیوں کے درمیان پھیرے اور اسے زرد کر لے تو وہ سونے جیسی ہو جائے گی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20828
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 181، حدیث 457
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يَزِيدُ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّةُ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ النِّسْوَةِ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذَا الْمَعْرُوفُ الَّذِي نُهِينَا أَنْ نَعْصِيَكَ فِيهِ؟ قَالَ: «لَا تَنُحْنَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَإِنَّ بَنِي فُلَانٍ قَدْ كَانَ أَسْعَدُونِي عَلَى بِنْتِ عَمِّي فُلَانَةٍ فَلَا بُدَّ مِنْ قَضَائِهِمْ، فَأَبَى عَلَيَّ، فَعَاوَدْتُهُ مِرَارًا، فَأَذِنَ لِي فِي قَضَائِهِنَّ فَلَمْ أَنُحْ بَعْدَ قَضَائِهِنَّ وَلَا غَيْرُهُ حَتَّى السَّاعَةِ، وَلَمْ يَبْقَ مِنَ النِّسْوَةِ إِلَّا قَدْ نَاحَتْ غَيْرِي
ترجمہ
ام سلمہ انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عورتوں میں سے ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ! وہ کون سی نیکی کی بات ہے جس میں ہمیں آپ کی نافرمانی سے منع کیا گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نوحہ نہ کرنا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں قبیلے والوں نے میری چچازاد بہن فلانہ کی وفات پر نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی (یعنی رواج کے مطابق ان کا حق مجھ پر تھا)، لہٰذا ان کا حق ادا کرنا ضروری ہے، تو آپ ﷺ نے مجھے منع کر دیا، میں نے کئی بار عرض کی تو آپ ﷺ نے مجھے ان کا حق ادا کرنے کی اجازت دے دی، چنانچہ ان کا حق ادا کرنے کے بعد میں نے آج تک نہ نوحہ کیا اور نہ کوئی اور اس جیسا کام، اور عورتوں میں سے میرے سوا کوئی ایسی نہیں بچی جس نے نوحہ نہ کیا ہو۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20829
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 181، حدیث 458