المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
إبراهيم بن عبد الرحمن الشيباني، عن شهر، عن أسماء، عن النبي صلى الله عليه وسلم باب: ابراہیم بن عبدالرحمن شیبانی کی شہر کے واسطے سے، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے واسطے سے، نبی کریم ﷺ سے روایت
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، أَنَّهُ لَقِيَ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ قَالَ: فَحَدَّثَتْنِي أَنَّهَا بَايَعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَايَعَ النِّسَاءَ، فَمَالَتْ فَمَدَّتْ يَدَهَا لِتُبَايِعَهُ فَقَبَضَ يَدَهُ وَقَالَ: «إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ، وَلَكِنْ إِنَّمَا آخُذُ عَلَيْهِنَّ فِي الْقَوْلِ» قَالَتْ: وَعَلِيَّ ثَوْبٌ وَحُلِّيٌّ، فَقَالَ: «يَا أَسْمَاءُ» فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: «أَيَسُرُّكِ أَنْ تُكْوَيْنَ بِهَذِهِ الْحُلِيِّ؟» قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «مَنْ تَحَلَّى ذَهَبًا أَوْ حَلَّى أَحَدًا مِنْ وَلَدِهِ مِثْلَ خُرَيْصِيصَةَ أَوْ رَجُلِ جَرَادَةَ كُوِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»شہر بن حوشب سے مروی ہے کہ ان کی ملاقات سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے ہوئی، انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن بیعت کی جس دن آپ ﷺ نے عورتوں سے بیعت لی، وہ آگے بڑھیں اور بیعت کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا: ”میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، بلکہ صرف زبانی عہد لیتا ہوں۔“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اور میں نے کپڑا اور زیور پہنا ہوا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسماء!“ میں نے عرض کیا: حاضر ہوں یا رسول اللہ! اور خوشی سے حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں پسند ہے کہ تمہیں اسی زیور سے داغا جائے؟“ میں نے عرض کیا: یہ کیسے یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص سونا پہنے یا اپنی کسی اولاد کو ٹڈی کی ٹانگ جتنا بھی سونا پہنائے، اسے قیامت کے دن اسی سے داغا جائے گا۔“