حدیث نمبر: 20829
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يَزِيدُ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّةُ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ النِّسْوَةِ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذَا الْمَعْرُوفُ الَّذِي نُهِينَا أَنْ نَعْصِيَكَ فِيهِ؟ قَالَ: «لَا تَنُحْنَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَإِنَّ بَنِي فُلَانٍ قَدْ كَانَ أَسْعَدُونِي عَلَى بِنْتِ عَمِّي فُلَانَةٍ فَلَا بُدَّ مِنْ قَضَائِهِمْ، فَأَبَى عَلَيَّ، فَعَاوَدْتُهُ مِرَارًا، فَأَذِنَ لِي فِي قَضَائِهِنَّ فَلَمْ أَنُحْ بَعْدَ قَضَائِهِنَّ وَلَا غَيْرُهُ حَتَّى السَّاعَةِ، وَلَمْ يَبْقَ مِنَ النِّسْوَةِ إِلَّا قَدْ نَاحَتْ غَيْرِي
ترجمہ

ام سلمہ انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عورتوں میں سے ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ! وہ کون سی نیکی کی بات ہے جس میں ہمیں آپ کی نافرمانی سے منع کیا گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نوحہ نہ کرنا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں قبیلے والوں نے میری چچازاد بہن فلانہ کی وفات پر نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی (یعنی رواج کے مطابق ان کا حق مجھ پر تھا)، لہٰذا ان کا حق ادا کرنا ضروری ہے، تو آپ ﷺ نے مجھے منع کر دیا، میں نے کئی بار عرض کی تو آپ ﷺ نے مجھے ان کا حق ادا کرنے کی اجازت دے دی، چنانچہ ان کا حق ادا کرنے کے بعد میں نے آج تک نہ نوحہ کیا اور نہ کوئی اور اس جیسا کام، اور عورتوں میں سے میرے سوا کوئی ایسی نہیں بچی جس نے نوحہ نہ کیا ہو۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20829
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 181، حدیث 458