کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبید بن رفاعہ زرقی کی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْباعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الْأَنْصَارِيُّ يُخْبِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا عَلَى عَائِشَةَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ وَعِنْدَهَا أُخْتُهَا أَسْمَاءُ، وَعَلَيْهَا ثِيَابٌ سَابِغَةٌ وَاسِعَةُ الْأَكِمَّةِ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَخَرَجَ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: تَنَحَّيْ فَقَدْ رَأَى مِنْكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرًا كَرِهَهُ، فَفَتَحَتْ فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ لِمَ قَامَ؟ فَقَالَ: «أَوَ لَمْ تَرَيْ إِلَى هَيَّأَتِهَا، إِنْهُ لَيْسَ لِلْمَرْأَةِ الْمُسْلِمَةِ أَنْ يَبْدُو مِنْهَا إِلَّا هَكَذَا» وَأَخَذَ كُمَّيْهِ فَغَطَّى بِهِمَا ظُهُورَ كَفَّيْهِ حَتَّى لَمْ يَبْدُ مِنْ كَفَّيْهِ إِلَّا أَصَابِعُهُ، ثُمَّ نَصَبَ كَفَّيْهِ عَلَى صُدْغَيْهِ حَتَّى لَمْ يَبْدُ إِلَّا وَجْهُهُ
ترجمہ
ابراہیم بن عبید بن رفاعہ انصاری رحمہ اللہ اپنے والد سے، وہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ سیدہ عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے، جبکہ ان کے پاس ان کی بہن اسماء تھیں اور انہوں نے کشادہ اور چوڑی آستینوں والے کپڑے پہن رکھے تھے، جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا تو کھڑے ہو کر باہر نکل گئے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: ہٹ جاؤ، رسول اللہ ﷺ نے تم سے ایک ایسی بات دیکھی ہے جسے انہوں نے ناپسند فرمایا ہے۔ تو اس نے دروازہ کھول دیا اور رسول اللہ ﷺ اندر تشریف لائے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے پوچھا: آپ کیوں کھڑے ہو گئے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اس کی حالت نہیں دیکھی؟ مسلمان عورت کے لیے جائز نہیں کہ اس کا جسم اس کے سوا کچھ ظاہر ہو“ - اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں آستینیں پکڑ کر ان سے اپنے دونوں ہاتھوں کی پشت ڈھانپ لی یہاں تک کہ ہاتھوں میں سے صرف انگلیاں ظاہر رہ گئیں، پھر اپنے دونوں ہاتھ اپنی کنپٹیوں پر رکھے یہاں تک کہ صرف چہرہ ظاہر رہ گیا۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ بَنِي جَعْفَرٍ يُصِيبُهُمُ الْعَيْنُ أَفَأَسْتَرْقِي لَهُمْ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ لَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابِقَ الْقَدَرِ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: بنی جعفر کو نظر لگ جاتی ہے، تو کیا میں ان کے لیے دم کرواؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جانے والی ہوتی تو نظر ہی اس سے سبقت لے جاتی۔“