المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عبيد بن رفاعة الزرقي، عن أسماء بنت عميس باب: عبید بن رفاعہ زرقی کی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20750
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ بَنِي جَعْفَرٍ يُصِيبُهُمُ الْعَيْنُ أَفَأَسْتَرْقِي لَهُمْ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ لَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابِقَ الْقَدَرِ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ»ترجمہ
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: بنی جعفر کو نظر لگ جاتی ہے، تو کیا میں ان کے لیے دم کرواؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جانے والی ہوتی تو نظر ہی اس سے سبقت لے جاتی۔“