کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: محمد بن منکدر کی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُوكِي فَيُوكِي اللهُ عَلَيْكِ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تھیلی کا منہ بند نہ رکھو، ورنہ اللہ تم پر بند کر دے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20650
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 104، حدیث 279
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا زَارَتْ أُخْتَهَا عَائِشَةَ، وَالزُّبَيْرُ غَائِبٌ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ رِيحَ طِيبٍ، فَقَالَ: «مَا عَلَى الْمَرْأَةِ أَنْ لَا تَطَيَّبَ وَزَوْجُهَا غَائِبٌ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنی بہن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملنے گئیں، جبکہ زبیر رضی اللہ عنہ گھر پر موجود نہ تھے، تو نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور خوشبو کی مہک محسوس کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”عورت پر کیا حرج ہے کہ خاوند کی عدم موجودگی میں وہ خوشبو نہ لگائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20651
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 104، حدیث 280
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ السِّرَاجُ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، ثنا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ الْإِنْسَانُ قَبْرَهُ حَفَّ بِهِ عَمَلُهُ الصَّالِحُ: الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ، وَيَأْتِيهِ الْمَلِكُ مِنْ نَحْوِ الصَّلَاةِ فَيَرُدُّهُ، وَمِنْ نَحْوِ الصِّيَامِ فَيَرُدُّهُ، فَيُنَادِيهِ اجْلِسْ فَيَجْلِسُ فَيَقُولُ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ قَالَ: وَأَيُّ رَجُلٍ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قَالَ: فَيَقُولُ وَاللهِ مَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ، فَيَقُولُ الْمَلِكُ: عَلَى ذَلِكَ عِشْتَ وَعَلَيْهِ مُتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ، قَالَ: وتُقَيَّضُ لَهُ دَابَّةٌ فِي قَبْرِهِ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ مَعَهَا سَوْطٌ تَمْرَتُهُ جَمْرَةٌ، فَيَضْرِبُهُ مَا شَاءَ اللهُ لَا يَسْمَعُ صَوْتَهُ أَحَدٌ فَيَرْحَمُهُ "
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب انسان اپنی قبر میں داخل ہوتا ہے تو اس کے نیک اعمال، نماز اور روزہ، اس کے گرد آ جاتے ہیں۔ فرشتہ نماز کی طرف سے اس کے پاس آتا ہے تو وہ اسے روک دیتی ہے، اور روزے کی طرف سے آتا ہے تو وہ اسے روک دیتا ہے، پھر فرشتہ اسے پکارتا ہے: بیٹھ جا۔ تو وہ بیٹھ جاتا ہے، فرشتہ اس سے کہتا ہے: تُو اس آدمی کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے: کون سا آدمی؟ فرشتہ کہتا ہے: محمد۔ تو وہ کہتا ہے: اللہ کی قسم! مجھے کچھ معلوم نہیں، میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہہ دیا۔ فرشتہ کہتا ہے: اسی پر تُو جیا اور اسی پر تُو مرا اور اسی پر تُو اٹھایا جائے گا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور اس کی قبر میں اس کے لیے ایک سیاہ اور تاریک سواری مقرر کی جاتی ہے، اس کے ساتھ ایک کوڑا ہوتا ہے جس کی نوک انگارہ ہوتی ہے، وہ جتنا اللہ چاہے اسے مارتی رہتی ہے، اس کی آواز کوئی نہیں سنتا کہ اس پر رحم کھائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20652
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 105، حدیث 281