المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عامر بن عبد الله بن الزبير، عن أسماء باب: عامر بن عبداللہ بن زبیر کی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْباعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: «كُنْتُ مَرَّةً فِي أَرْضٍ قَطَعَهَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي سَلَمَةَ، وَالزُّبَيْرِ مِنْ أَرْضِ النَّضِيرِ، فَخَرَجَ الزُّبَيْرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، وَلَنَا جَارٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَذَبَحَ شَاةً فَطُبِخَتْ فَوَجَدْتُ رِيحَهَا، فَدَخَلَنِي مِنْ رِيحِ اللَّحْمِ مَا لَمْ يُدْخِلُنِي مِنْ شَيْءٍ قَطُّ وَأَنَا حَامِلٌ بِابْنَةٍ لِي تُدْعَى خَدِيجَةَ، فَلَمْ أَصْبِرْ فَانْطَلَقْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى امْرَأَتِهِ أقْتَبِسُ مِنْهَا نَارًا لَعَلَّهَا تُطْعِمُنِي، وَمَا لِي مِنْ حَاجَةٍ إِلَى النَّارِ، فَلَمَّا شَمَمْتُ رِيحَهُ، وَرَأَيْتُهُ ازْدَدْتُ شَرًّا، فَأَطْفَأَتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ الثَّانِيَةَ أقْتَبِسُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ الثَّالِثَةَ فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قَعَدْتُ أَبْكِي وَأَدْعُو اللهَ، فَجَاءَ زَوْجُ الْيَهُودِيَّةِ فَقَالَ: أَدَخَلَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ؟ قَالَتْ: لَا إِلَّا الْعَرَبِيَّةُ أَتَتْ تَقْتَبِسُ نَارًا، فَقَالَ: فَلَا آكُلُ مِنْهَا أَبَدًا أَوْ تُرْسِلِي مِنْهَا إِلَيْهَا، فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ بِقَدْحَةٍ، وَلَمْ يَكُنْ فِي الْأَرْضِ شَيْءٌ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ تِلْكَ الْأَكْلَةِ، قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ: «الْقَدْحَةُ عَرْقَةٌ»سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”ایک بار میں اس زمین میں تھی جو نبی اللہ ﷺ نے ابوسلمہ اور زبیر کو بنو نضیر کی زمین میں سے عطا فرمائی تھی، تو زبیر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکل گئے۔“ اور ہمارا ایک یہودی ہمسایہ تھا، اس نے ایک بکری ذبح کی اور اسے پکایا، تو مجھے اس کی خوشبو محسوس ہوئی، اور گوشت کی اس خوشبو نے مجھے اتنا متاثر کیا جتنا مجھے پہلے کبھی کسی چیز نے نہیں کیا تھا، جبکہ میں اپنی بیٹی خدیجہ کے حمل سے تھی۔ مجھ سے صبر نہ ہو سکا تو میں چل کر اس کی بیوی کے پاس گئی کہ اس سے آگ ادھار لوں، شاید وہ مجھے کھانا کھلا دے، حالانکہ مجھے آگ کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ جب میں نے اس کی خوشبو سونگھی اور اسے دیکھا تو میری بے قراری اور بڑھ گئی، تو میں نے آگ بجھا دی، پھر میں دوبارہ اسی طرح آگ لینے آئی، پھر تیسری بار بھی۔ جب میں نے یہ حالت دیکھی تو بیٹھ کر رونے اور اللہ سے دعا کرنے لگی۔ تو اس یہودی عورت کا شوہر آیا اور پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی آیا تھا؟ اس نے کہا: نہیں، سوائے اس عرب عورت کے جو آگ لینے آئی تھی۔ اس نے کہا: تو میں اس میں سے کبھی نہیں کھاؤں گا جب تک تم اس میں سے کچھ اسے نہ بھیج دو۔ چنانچہ اس نے میرے پاس گوشت کا ایک ٹکڑا بھیج دیا، اور زمین پر مجھے اس کھانے سے زیادہ عجیب (لذیذ) کوئی چیز محسوس نہ ہوئی۔“ ابن بکیر کہتے ہیں: ”قدحہ سے مراد ہڈی سمیت گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔“