کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: ام منبوذ مکیہ کی سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْبُوذٌ، أَنَّ أُمَّهُ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا بَيْنَا هِيَ جَالِسَةٌ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ دَخَلَ عَلَيْهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَتْ: مَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا؟ فَقَالَ: أُمُّ عَمَّارٍ مُرَجِّلَتِي حَاضَتْ، فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ؟ لَقَدْ «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى إِحْدَانَا وَهِيَ مُتَّكِئَةٌ حَائِضًا قَدْ عَلِمَ ذَلِكَ فَيَتَّكِئُ عَلَيْهَا فَيَتْلُو الْقُرْآنَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيْهَا، وَيَدْخُلُ عَلَيْهَا قَائِمَةً وَهِيَ حَائِضٌ فَيَتَّكِئُ فِي حِجْرِهَا وَيَتْلُو الْقُرْآنَ، وَتَقُومُ وَهِيَ حَائِضٌ فَتَبْسُطُ لَهُ الْخُمْرَةَ فِي مُصَلَّاهُ فَيُصَلِّي عَلَيْهَا» ، أَيْ بُنَيَّ وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ
ترجمہ
منبوذ کی والدہ بیان کرتی ہیں کہ وہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا زوجِ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھی تھیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: کیا بات ہے، میں تمہیں پراگندہ دیکھ رہی ہوں؟ انہوں نے کہا: میرے بال سنوارنے والی ام عمار کو حیض آ گیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: بیٹے! حیض کا ہاتھ سے کیا تعلق؟ رسول اللہ ﷺ ہم میں سے کسی کے پاس اس حال میں آتے کہ وہ ٹیک لگائے بیٹھی ہوتی، حیض کی حالت میں، اور آپ ﷺ کو یہ معلوم ہوتا، تو آپ ﷺ اس پر ٹیک لگا کر قرآن کی تلاوت کرتے، اور آپ ﷺ اس کے پاس آتے جبکہ وہ کھڑی ہوتی اور حیض میں ہوتی تو اس کی گود میں ٹیک لگا کر قرآن کی تلاوت کرتے، اور وہ حیض کی حالت میں کھڑی ہو کر آپ ﷺ کے لیے مصلے پر خمرہ بچھا دیتی تو آپ ﷺ اس پر نماز پڑھتے۔ بیٹے! حیض کا ہاتھ سے کیا تعلق؟
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20393
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 13، حدیث 22
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مَنْبُوذٌ الْمَكِّيُّ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ مَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا رَأْسُكَ، فَقَالَ: إِنَّ مُرَجِّلَتِي أُمَّ عَمَّارٍ حَائِضٌ، فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ، وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ إِنْ «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا وَهِيَ حائِضٌ فَيُصَلِّي عَلَيْهَا»
ترجمہ
منبوذ مکی کی والدہ بیان کرتی ہیں: میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے، تو انہوں نے فرمایا: بیٹے! کیا بات ہے، میں تمہارا سر پراگندہ دیکھ رہی ہوں؟ انہوں نے کہا: میری بال سنوارنے والی ام عمار حائضہ ہے۔ انہوں نے فرمایا: بیٹے! حیض کا ہاتھ سے کیا تعلق، جبکہ رسول اللہ ﷺ ہم میں سے کسی کی گود میں سر رکھ دیتے جبکہ وہ حیض کی حالت میں ہوتی اور اس پر نماز پڑھتے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20394
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 14، حدیث 23