حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: لَبِسْتُ قِلَادَةً فِيهَا شَعَرَاتٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهَهَا فَأَعْرَضَ عَنِّي فَنَزَعْتُهَا، فَقَالَ: «مَا يُؤْمِنُكِ أَنْ يُقَلِّدَكِ اللهُ مَكَانَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَعَرَاتٍ مِنْ نَارٍ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے ایک ہار پہنا جس میں سونے کے تار تھے، تو نبی کریم ﷺ نے مجھے دیکھا تو ناپسند فرمایا اور مجھ سے منہ پھیر لیا، تو میں نے اسے اتار دیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جگہ تمہیں آگ کے تاروں کا ہار پہنائے؟“
حَدَّثَنَا الْخَلَّالُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ شَعَرَاتٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَعْرَضَ عَنِّي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تَنْظُرُ إِلَى زِينَتِي، فَقَالَ: «عَنْهَا أُعْرِضُ» ، فَقَطَعْتُهَا، فَأَقْبَلَ إِلَيَّ بِوَجْهِهِ
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی کریم ﷺ تشریف لائے جبکہ میں نے سونے کے تار پہن رکھے تھے، تو آپ ﷺ نے مجھ سے منہ پھیر لیا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ میری زینت کی طرف نہیں دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اسی سے تو منہ پھیر رہا ہوں۔“ تو میں نے اسے کاٹ دیا، تو آپ ﷺ نے میری طرف اپنا چہرہ پھیر لیا۔
حَدَّثَنَا الْخَلَّالُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْرِضُ الصِّيَامَ مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ يُصْبِحُ فَيَقُولُ: «هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟» ، فَنَقُولُ: مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ أَلَسْتَ صَائِمًا؟
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی کریم ﷺ رات کو روزے کی نیت کر لیتے، پھر صبح ہوتی تو فرماتے: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ تو ہم کہتیں: ہمارے پاس کچھ نہیں، کیا آپ روزہ دار نہیں؟