المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
نوفل بن مساحق، عن أم سلمة باب: نوفل بن مساحق کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20272
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُنْذِرُ بْنُ الْجَهْمِ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرَّحِمُ شُجْنَةٌ آخِذَةٌ بِحُجْزَةِ الرَّحْمَنِ تُنَاشِدُهُ حَقَّهَا، فَيَقُولُ: أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ، وَأَقْطَعُ مَنْ قَطَعَكِ مَنْ وَصَلَكِ، فَقَدْ وَصَلَنِي، وَمَنْ قَطَعَكِ فَقَدْ قَطَعَنِي "ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رشتہ داری رحمٰن کی کمر سے وابستہ ایک شاخ ہے، وہ اسے اپنے حق کا واسطہ دیتی ہے، تو اللہ فرماتا ہے: کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ میں اسے ملاؤں جو تجھے ملائے اور اسے کاٹ دوں جو تجھے کاٹے؟ جس نے تجھے ملایا اس نے مجھے ملایا، اور جس نے تجھے کاٹا اس نے مجھے کاٹا۔“