کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: فرمانِ الٰہی ’اگر دنیا و آخرت میں تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس بات میں تم پڑ گئے تھے اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا‘ کی آیت
❮
❯
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ الْغَنِيِّ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّنْعَانِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَعَنْ مُقَاتِلِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {وَلَوْلَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ} [النور: ١٤] : «يُرِيدُ فَلَوْلَا مَا تَفْضَلَّ اللهُ بِهِ عَلَيْكُمْ وَسَتَرَكُمْ» ، {لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَفَضْتُمْ فِيهِ} : «يُرِيدُ مِنَ الْكَذِبِ» ، {عَذَابٌ عَظِيمٌ} [النور: ١٤] : «يُرِيدُ لَا انْقِطَاعَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں نہ ہوتی“ [سورۃ النور: 14]: یعنی اگر اللہ نے تم پر احسان نہ کیا ہوتا اور تمہاری پردہ پوشی نہ کی ہوتی، ”تو جس بات میں تم پڑ گئے تھے اس کی وجہ سے تمہیں“: یعنی اس جھوٹ کی وجہ سے، ”بہت بڑا عذاب پہنچتا“ [سورۃ النور: 14]: یعنی ایسا عذاب جس کا کوئی انقطاع نہ ہوتا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19497
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 140، حدیث 193
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: {وَلَوْلَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ} [النور: ١٤] ، فِيهَا تَقْدِيمٌ، يَقُولُ: {لَوْلَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ لَمَسَّكُمْ} [النور: ١٤] ، يَعْنِي: «لَأَصَابَكُمْ» ، {فِي مَا أَفَضْتُمْ فِيهِ} [النور: ١٤] يَعْنِي: «فِيمَا قُلْتُمْ فِيهِ مِنَ الْقَذْفِ» ، {عَذَابٌ عَظِيمٌ} [النور: ١٤] «لَأَصَابَكُمْ مِنَ الْعُقُوبَةِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»
ترجمہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہتے ہیں: “اور اگر تم پر دنیا و آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی” [سورۃ النور: 14]، اس میں تقدیم و تاخیر ہے، مطلب یہ ہے: “اگر تم پر دنیا و آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تمہیں پہنچتا” [سورۃ النور: 14]، یعنی تم پر عذاب آ پڑتا، “اس بات میں جس میں تم پڑے” [سورۃ النور: 14] یعنی جو بہتان تم نے باندھا اس میں، “بڑا عذاب” [سورۃ النور: 14] یعنی دنیا و آخرت کی سزا میں سے تمہیں پہنچتا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19498
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 141، حدیث 194
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ: {وَلَوْلَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَفَضْتُمْ فِيهِ عَذَابٌ عَظِيمٌ} ، قَالَ: «هَذَا فِي شَأْنِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَفِيمَا قِيلَ، كَادَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُهْلَكُوا فِيهِ»
ترجمہ
قتادہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس بات میں تم پڑ گئے تھے اس کی وجہ سے تمہیں بہت بڑا عذاب پہنچتا“: یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں ہے اور اس بارے میں جو کہا گیا، قریب تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اس میں ہلاک ہو جاتے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19499
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 141، حدیث 195