کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا ابوامیہ قشیری رضی اللہ عنہ (یہ بھی کہا گیا: ضمری)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ رَجَعْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَغَدَّى» ، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ عَنِ الْمُسَافِرِ، إِنَّ اللهَ وَضَعَ عَنْهُ الصَّوْمَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا ابوامیہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سفر سے واپس نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، جب آپ ﷺ کھانا کھانے لگے تو میں واپس چلا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا کھانا نہیں کھاؤ گے؟“ میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں مسافر کے بارے میں نہ بتاؤں؟ اللہ نے اس سے روزہ اور آدھی نماز معاف کر دی ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا ذَهَبْتُ لِأَخْرُجَ قَالَ: «انْتَظَرِ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ» ، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللهِ، قَالَ: فَقَالَ: «أُخْبِرُكَ عَنِ الْمُسَافِرِ إِنَّ اللهَ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا ابوامیہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سفر سے واپس نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو سلام کیا، جب میں جانے لگا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوامیہ! کھانے کا انتظار کرو۔“ میں نے عرض کیا: یا نبی اللہ! میں روزے سے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں مسافر کے بارے میں بتاتا ہوں: اللہ نے اس سے روزہ اور آدھی نماز معاف کر دی ہے۔“