المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
أبو أمية القشيري ويقال الضمري باب: سیدنا ابوامیہ قشیری رضی اللہ عنہ (یہ بھی کہا گیا: ضمری)
حدیث نمبر: 19109
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ رَجَعْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَغَدَّى» ، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ عَنِ الْمُسَافِرِ، إِنَّ اللهَ وَضَعَ عَنْهُ الصَّوْمَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ»ترجمہ
سیدنا ابوامیہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سفر سے واپس نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، جب آپ ﷺ کھانا کھانے لگے تو میں واپس چلا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا کھانا نہیں کھاؤ گے؟“ میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں مسافر کے بارے میں نہ بتاؤں؟ اللہ نے اس سے روزہ اور آدھی نماز معاف کر دی ہے۔“