المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
أبو أمية القشيري ويقال الضمري باب: سیدنا ابوامیہ قشیری رضی اللہ عنہ (یہ بھی کہا گیا: ضمری)
حدیث نمبر: 19110
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا ذَهَبْتُ لِأَخْرُجَ قَالَ: «انْتَظَرِ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ» ، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللهِ، قَالَ: فَقَالَ: «أُخْبِرُكَ عَنِ الْمُسَافِرِ إِنَّ اللهَ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ»ترجمہ
سیدنا ابوامیہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سفر سے واپس نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو سلام کیا، جب میں جانے لگا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوامیہ! کھانے کا انتظار کرو۔“ میں نے عرض کیا: یا نبی اللہ! میں روزے سے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں مسافر کے بارے میں بتاتا ہوں: اللہ نے اس سے روزہ اور آدھی نماز معاف کر دی ہے۔“