کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: جن کی کنیت ابوفاطمہ ہے — سیدنا ابوفاطمہ ضمری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الْحِمْصِيُّ، ثنا جَدِّي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي فَاطِمَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مُرْنِي بِعَمَلٍ أَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَأَعْمَلُهُ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللهِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ أَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَأَعْمَلُهُ قَالَ: «عَلَيْكَ بِالْهِجْرَةِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهَا» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ أَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَأَعْمَلُهُ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَ اللهُ لَكَ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ بِهَا خَطِيئَةً»
ترجمہ
سیدنا ابوفاطمہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس پر میں ثابت قدم رہوں اور اسے کرتا رہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد فی سبیل اللہ کو لازم پکڑو، کیونکہ اس جیسا کوئی عمل نہیں۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کوئی اور عمل بتائیں جس پر میں ثابت قدم رہوں اور اسے کرتا رہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہجرت کو لازم پکڑو، کیونکہ اس جیسی کوئی چیز نہیں۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کوئی اور عمل بتائیں جس پر میں ثابت قدم رہوں اور اسے کرتا رہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سجدے کو لازم پکڑو، کیونکہ تم اللہ کے لیے کوئی سجدہ نہیں کرتے مگر اللہ اس کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ: أَنَّ أَبَا فَاطِمَةَ، حَدَّثَهُمْ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا بِعَمَلٍ نَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَنَعْمَلُهُ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالْهِجْرَةِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهَا» ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا بِعَمَلٍ نَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَنَعْمَلُهُ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالْجِهَادِ، فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ» ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا بِعَمَلٍ نَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَنَعْمَلُهُ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا بِعَمَلٍ نَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَنَعْمَلُهُ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً»
ترجمہ
سیدنا ابوفاطمہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیں جس پر ہم ثابت قدم رہیں اور اسے کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہجرت کو لازم پکڑو، کیونکہ اس جیسی کوئی چیز نہیں۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں کوئی اور عمل بتائیں جس پر ہم ثابت قدم رہیں اور اسے کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد کو لازم پکڑو، کیونکہ اس جیسا کوئی عمل نہیں۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں کوئی اور عمل بتائیں جس پر ہم ثابت قدم رہیں اور اسے کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”روزے کو لازم پکڑو، کیونکہ اس جیسا کوئی عمل نہیں۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں کوئی اور عمل بتائیں جس پر ہم ثابت قدم رہیں اور اسے کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سجدے کو لازم پکڑو، کیونکہ تم اللہ کے لیے کوئی سجدہ نہیں کرتے مگر اللہ اس کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا فَاطِمَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَكْثِرُوا مِنَ السُّجُودِ فَإِنَّهُ مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ بِهَا دَرَجَةً»
ترجمہ
سیدنا ابوفاطمہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سجدہ زیادہ کیا کرو، کیونکہ جو بندہ بھی اللہ کے لیے سجدہ کرتا ہے، اللہ اسی کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي فَاطِمَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا فَاطِمَةَ، إِنْ أَرَدْتَ أَنْ تَلْقَانِي فَأَكْثِرْ مِنَ السُّجُودِ»
ترجمہ
سیدنا ابوفاطمہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابوفاطمہ! اگر تم مجھ سے جنت میں ملنا چاہتے ہو تو سجدہ زیادہ کیا کرو۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ مُسْلِمٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ أَبِي فَاطِمَةَ الضَّمْرِيِّ فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: «مَنْ يُحِبُّ أَنْ يُصْبِحَ فَلَا يَسْقَمُ؟» فَابْتَدَأَنْاهُ فَقُلْنَا: نَحْنُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَعَرَفْنَاهَا فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: «أَتُحِبُّونَ أَنْ تَكُونُوا كَالْحَمِيرِ الصِّيالَةِ؟» ، قَالُوا: لَا، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ تَكُونُوا أَصْحَابَ بَلَاءٍ، وَأَصْحَابَ كَفَّارَاتٍ؟، فَوَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ إِنَّ اللهَ لَيَبْتَلِيَ الْمُؤْمِنَ بِالْبَلَاءِ وَمَا يَبْتَلِيهِ بِهِ إِلَّا لِكَرَامَتِهِ عَلَيْهِ، إِنَّ اللهَ قَدْ أَنْزَلَهُ مَنْزِلَةً لَمْ يَبْلُغْهَا بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ فَيَبْتَلِيهِ مِنَ الْبَلَاءِ مَا يُبَلِّغُهُ تِلْكَ الدَّرَجَةَ»
ترجمہ
راوی کہتے ہیں: میں عبداللہ بن ایاس بن ابی فاطمہ ضمری کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سیدنا ابوفاطمہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کون پسند کرتا ہے کہ صبح کرے اور بیمار نہ ہو؟“ ہم نے بغیر سوچے کہا: ہم، یا رسول اللہ! کہتے ہیں: ہم نے یہ ناپسندیدگی آپ ﷺ کے چہرے پر پہچان لی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم پسند کرتے ہو کہ گدھوں کی طرح ہو جاؤ جو سر ٹکراتے پھرتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم پسند نہیں کرتے کہ تم آزمائشوں والے اور کفارے والے بن جاؤ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے! اللہ تعالیٰ مومن کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے، اور اسے اس میں صرف اس کی عزت کی وجہ سے مبتلا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ایک ایسا مقام مقرر کر رکھا ہے جس تک وہ اپنے کسی عمل سے نہیں پہنچ سکتا، تو وہ اسے اتنی آزمائش میں ڈالتا ہے جو اسے اس درجے تک پہنچا دے۔“
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي عَقِيلِ، مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِيَاسٍ بن أَبِي فَاطِمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ سَوَاءً
ترجمہ
سیدنا ابوفاطمہ ضمری رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث بعینہ مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو الطَّاهِرُ السَّرْحِيُّ، ثنا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسِ بْنِ أَبِي فَاطِمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابوفاطمہ ضمری رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔