حدیث نمبر: 19016
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ مُسْلِمٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ أَبِي فَاطِمَةَ الضَّمْرِيِّ فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: «مَنْ يُحِبُّ أَنْ يُصْبِحَ فَلَا يَسْقَمُ؟» فَابْتَدَأَنْاهُ فَقُلْنَا: نَحْنُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَعَرَفْنَاهَا فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: «أَتُحِبُّونَ أَنْ تَكُونُوا كَالْحَمِيرِ الصِّيالَةِ؟» ، قَالُوا: لَا، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ تَكُونُوا أَصْحَابَ بَلَاءٍ، وَأَصْحَابَ كَفَّارَاتٍ؟، فَوَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ إِنَّ اللهَ لَيَبْتَلِيَ الْمُؤْمِنَ بِالْبَلَاءِ وَمَا يَبْتَلِيهِ بِهِ إِلَّا لِكَرَامَتِهِ عَلَيْهِ، إِنَّ اللهَ قَدْ أَنْزَلَهُ مَنْزِلَةً لَمْ يَبْلُغْهَا بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ فَيَبْتَلِيهِ مِنَ الْبَلَاءِ مَا يُبَلِّغُهُ تِلْكَ الدَّرَجَةَ»
ترجمہ

راوی کہتے ہیں: میں عبداللہ بن ایاس بن ابی فاطمہ ضمری کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سیدنا ابوفاطمہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کون پسند کرتا ہے کہ صبح کرے اور بیمار نہ ہو؟“ ہم نے بغیر سوچے کہا: ہم، یا رسول اللہ! کہتے ہیں: ہم نے یہ ناپسندیدگی آپ ﷺ کے چہرے پر پہچان لی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم پسند کرتے ہو کہ گدھوں کی طرح ہو جاؤ جو سر ٹکراتے پھرتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم پسند نہیں کرتے کہ تم آزمائشوں والے اور کفارے والے بن جاؤ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے! اللہ تعالیٰ مومن کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے، اور اسے اس میں صرف اس کی عزت کی وجہ سے مبتلا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ایک ایسا مقام مقرر کر رکھا ہے جس تک وہ اپنے کسی عمل سے نہیں پہنچ سکتا، تو وہ اسے اتنی آزمائش میں ڈالتا ہے جو اسے اس درجے تک پہنچا دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند من يعرف بالكنى / حدیث: 19016
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 323، حدیث 813