کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: جن کی کنیت ابوسبرہ ہے — سیدنا ابوسبرہ جعفی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ النَّخَعِيِّ، عَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ: أَنَّ أَبَاهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا وَلَدُكَ؟» ، فَقَالَ: عَبْدُ الْعُزَّى، وَسَبْرَةُ، وَالْحَارِثُ، قَالَ: «لَا تُسَمِّ عَبْدَ الْعُزَّى، وَسَمِّ عَبْدَ اللهِ، فَإِنَّ خَيْرَ الْأَسْمَاءِ عَبْدُ اللهِ، وَعُبَيْدُ اللهِ، وَالْحَارِثُ، وَهَمَّامٌ» وَدَعَا لِوَلَدِهِ فَمَا زَالُوا فِي شَرَفٍ إِلَى الْيَوْمِ
ترجمہ
سیدنا ابوسبرہ جعفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہاری اولاد کون کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: عبدالعزیٰ، سبرہ اور حارث۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عبدالعزیٰ نام نہ رکھو، اس کا نام عبداللہ رکھو، کیونکہ بہترین نام عبداللہ اور عبیداللہ اور حارث اور ہمام ہیں۔“ اور آپ ﷺ نے ان کی اولاد کے لیے دعا فرمائی، چنانچہ وہ آج تک عزت میں رہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السِّقْطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ ابْنِي، فَقَالَ: «مَا وَلَدُكَ؟» ، فَقُلْتُ: فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَعَبْدُ الْعُزَّى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ أَسْمَائِكُمْ عَبْدُ اللهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَالْحَارِثُ»
ترجمہ
سیدنا ابوسبرہ جعفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے بیٹے کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہاری اولاد کون کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: فلاں، فلاں اور عبدالعزیٰ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بہترین نام عبداللہ، عبدالرحمن اور حارث ہیں۔“