المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا سبرة أبو سبرة الجعفي باب: جن کی کنیت ابوسبرہ ہے — سیدنا ابوسبرہ جعفی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 18957
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ النَّخَعِيِّ، عَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ: أَنَّ أَبَاهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا وَلَدُكَ؟» ، فَقَالَ: عَبْدُ الْعُزَّى، وَسَبْرَةُ، وَالْحَارِثُ، قَالَ: «لَا تُسَمِّ عَبْدَ الْعُزَّى، وَسَمِّ عَبْدَ اللهِ، فَإِنَّ خَيْرَ الْأَسْمَاءِ عَبْدُ اللهِ، وَعُبَيْدُ اللهِ، وَالْحَارِثُ، وَهَمَّامٌ» وَدَعَا لِوَلَدِهِ فَمَا زَالُوا فِي شَرَفٍ إِلَى الْيَوْمِترجمہ
سیدنا ابوسبرہ جعفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہاری اولاد کون کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: عبدالعزیٰ، سبرہ اور حارث۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عبدالعزیٰ نام نہ رکھو، اس کا نام عبداللہ رکھو، کیونکہ بہترین نام عبداللہ اور عبیداللہ اور حارث اور ہمام ہیں۔“ اور آپ ﷺ نے ان کی اولاد کے لیے دعا فرمائی، چنانچہ وہ آج تک عزت میں رہے۔