حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُعِينَا إِلَى طَعَامٍ، فَإِذَا الْحُسَيْنُ يَلْعَبُ فِي الطَّرِيقِ، فَأَسْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَ الْقَوْمِ، ثُمَّ بَسَطَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ حُسَيْنٌ يَمُرُّ مَرَّةً هَهُنَا وَمَرَّةً هَهُنَا يُضَاحِكُهُ حَتَّى أَخَذَهُ فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ فِي ذَقَنِهِ وَالْأُخْرَى بَيْنَ رَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ، ثُمَّ اعْتَنَقَهُ وَقَبَّلَهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُسَيْنٌ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ أَحَبَّ اللهُ مَنْ أَحَبَّهُ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سِبْطَانِ مِنَ الْأَسْبَاطِ»
ترجمہ
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو ہمیں ایک کھانے کی دعوت دی گئی، اسی دوران حسین رضی اللہ عنہ راستے میں کھیل رہے تھے، تو نبی کریم ﷺ لوگوں سے آگے بڑھے، پھر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے، حسین رضی اللہ عنہ کبھی ادھر اور کبھی ادھر بھاگ رہے تھے اور آپ ﷺ اس سے کھیل رہے تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اسے پکڑ لیا، ایک ہاتھ اس کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا اس کے سر اور کانوں کے درمیان رکھا، پھر اسے گلے لگایا اور بوسہ دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت رکھے جو اس سے محبت رکھے، حسن اور حسین اسباط میں سے دو سبط ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ يَعْلَى بْنُ مُرَّةَ، أَنَّهُمُ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ دُعُوا إِلَيْهِ، فَإِذَا حُسَيْنٌ يَلْعَبُ مَعَ صَبِيَّةٍ فِي السِّكَّةِ فَاسْتَقْبَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَ الْقَوْمِ، فَشَبَّكَ يَدَيْهِ فَطَفِقَ الْغُلَامُ يَقَعُ هَهُنَا وَهَهُنَا وَيُضَاحِكُهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَخَذَهُ، فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ ذَقَنِهِ وَالْأُخْرَى فِي فَأْسِ رَأْسِهِ ثُمَّ اتَّبَعَهُ فَقَبَّلَهُ، وَقَالَ: «حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ أَحَبَّ اللهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ»
ترجمہ
سعید بن ابی راشد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک ایسی دعوتِ طعام پر نکلے جس کی طرف انہیں بلایا گیا تھا، اسی دوران حسین رضی اللہ عنہ گلی میں کچھ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے آئے، اپنی انگلیاں آپس میں جوڑیں تو وہ بچہ ادھر ادھر گرتا پڑتا تھا اور رسول اللہ ﷺ اس سے کھیل رہے تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اسے پکڑ لیا، ایک ہاتھ اس کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا اس کے سر کے اوپری حصے پر رکھا، پھر اس کے پیچھے جھک کر اسے بوسہ دیا، اور فرمایا: ”حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت رکھے جو حسین سے محبت رکھے، حسین اسباط میں سے ایک سبط ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا وُهَيْبٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ يَعْلَى بْنُ مُرَّةَ، أَنَّهُ رَأَى حَسَنًا وَحُسَيْنًا أَقْبَلَا يَمْشِيَانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ أَحَدُهُمَا جَعَلَ يَدَهُ فِي عُنُقِهِ، ثُمَّ جَاءَهُ الْآخَرُ فَجَعَلَ يَدَهُ الْأُخْرَى فِي عُنُقِهِ، فَقَبَّلَ هَذَا، ثُمَّ قَبَّلَ هَذَا، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا، أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ»
ترجمہ
سعید بن ابی راشد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ چلتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی طرف آ رہے تھے، جب ان میں سے ایک آیا تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس کی گردن میں ڈالا، پھر دوسرا آیا تو آپ ﷺ نے دوسرا ہاتھ اس کی گردن میں ڈالا، پھر اس کو بوسہ دیا، پھر اس کو بوسہ دیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما۔ اے لوگو! اولاد انسان کو بخیل اور بزدل بنا دیتی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ يَعْلَى بْنُ مُرَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ آخِرَ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا رَبُّ الْعَالَمِينَ بِوَجٍّ»
ترجمہ
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رب العالمین کی آخری گرفت وَجّ کے مقام پر ہوئی۔“