کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: منہال بن عمرو کی سیدنا ابویعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ عِيسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ يَعْلَى بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ مِنْهُ ثَلَاثَةَ أَشْيَاءَ عَجِيبَةً، قَالَ: نَزَلْنَا بِأَرْضٍ فِيهَا شَجَرٌ كَثِيرٌ فَقَالَ لِي: «اذْهَبْ إِلَى تِيكَ الشَّجَرَتَيْنِ، فَقُلْ لَهُمَا إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا» ، فَذَهَبْتُ إِلَيْهِمَا، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا فَاجْتَمَعَتَا فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ، وَقَالَ: " اذْهَبْ فَقُلْ لَهُمَا: يَتَفَرَّقَانِ "، فَقُلْتُ لَهُمَا فَتَفَرَّقَتَا، وَجَاءَتِ امْرَأَةٌ بِصَبِيٍّ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا يُصْرَعُ فِي الشَّهْرِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، قَالَ: «أَدْنِيهِ مِنِّي، فَتَفَلَ فِي فِيهِ» ، وَقَالَ: «اخْرُجْ عَدُوَّ اللهِ أَنَا رَسُولُ اللهِ» ، ثُمَّ قَالَ لَهَا: «إِذَا رَجَعْتِ فَأَعْلِمِينِي مَا صَنَعَ» فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَتْهُ بِكَبْشَيْنِ وَشَيْءٍ مِنْ سَمْنٍ وَأَقِطٍ، فَقَالَ لِي: «خُذْ مِنْهَا أَحَدَ الْكَبْشَيْنِ وَمَا مَعَهَا» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا رَأَيْتُ مِنْهُ ذَاكَ، قَالَ: «فَأَتَاهُ بَعِيرٌ فَرَأَى عَيْنَيْهِ تَسِيلَانِ» ، فَقَالَ: لِمَنْ هَذَا؟، فَقَالُوا: لِآلِ فُلَانٍ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا لِهَذَا الْبَعِيرِ يَشْكُوكُمْ؟» ، قَالُوا: كَانَ لَنَا نَاضِحًا فَكَبِرَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَنْحَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَرُوهُ فِي الْإِبِلِ فَذَرُوهُ»
ترجمہ
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا، تو میں نے آپ ﷺ سے تین عجیب چیزیں دیکھیں۔ کہتے ہیں: ہم ایک ایسی زمین پر اترے جہاں بہت سے درخت تھے، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”ان دونوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اکٹھے ہو جاؤ۔“ میں ان کے پاس گیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اکٹھے ہو جاؤ، تو وہ دونوں اکٹھے ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی حاجت پوری کی اور فرمایا: ”جاؤ اور ان سے کہو کہ الگ ہو جائیں۔“ میں نے ان سے کہا تو وہ الگ ہو گئے۔ پھر ایک عورت ایک بچہ لے کر آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس بچے کو مہینے میں سات بار مرگی کا دورہ پڑتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے میرے قریب لاؤ“، پھر اس کے منہ میں تھوکا اور فرمایا: ”اے اللہ کے دشمن نکل جا، میں اللہ کا رسول ہوں۔“ پھر اس عورت سے فرمایا: ”جب واپس جاؤ تو مجھے بتانا کہ کیا ہوا۔“ جب وہ واپس آئی تو دو مینڈھے اور کچھ گھی اور پنیر لے کر آئی۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”ان دونوں مینڈھوں میں سے ایک اور جو کچھ اس کے ساتھ ہے، لے لو۔“ اس عورت نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اس میں دوبارہ ایسا کچھ نہیں دیکھا۔ پھر آپ ﷺ کے پاس ایک اونٹ لایا گیا تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کس کا ہے؟ لوگوں نے کہا: فلاں گھرانے کا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے پاس پیغام بھیجا اور فرمایا: ”اس اونٹ کو کیا ہوا ہے کہ وہ تمہاری شکایت کر رہا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یہ ہمارا پانی ڈھونے والا اونٹ تھا، جب یہ بوڑھا ہو گیا تو ہم نے چاہا کہ اسے ذبح کر دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اونٹوں میں ہی چھوڑ دو“، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا مُحَاضِرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: " رَأَيْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَشْيَاءَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ سے تین چیزیں دیکھیں، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔