المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الرحمن بن إسحاق، عن عبد الله بن يعلى، عن أبيه باب: عبدالرحمٰن بن اسحاق کی، عبداللہ بن یعلیٰ کے واسطے سے، ان کے والد سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 18885
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، أَخُو حَجَّاجٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَطْلَيْتُ يَوْمًا، ثُمَّ تَخَلَّقْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَاوَلْتُهُ يَدِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، صَلِّ عَلَيَّ، فَقَالَ: «مَا هَذَا الَّذِي عَلَى يَدِكَ؟» ، فَقُلْتُ: إِنِّي تَنَوَّرْتُ ثُمَّ تَخَلَّقْتُ: فَقَالَ: «أَلَكَ امْرَأَةٌ؟» ، قُلْتُ: لَا، قَالَ: «أَلَكَ سُرِّيَّةٌ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَانْطَلِقْ فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ»ترجمہ
سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایک دن نورہ سے بال صاف کیے، پھر خوشبو لگائی اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا ہاتھ آپ ﷺ کی طرف بڑھایا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے دعا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے ہاتھ پر یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے نورہ استعمال کیا ہے پھر خوشبو لگائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہاری کوئی بیوی ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہاری کوئی باندی ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور اسے دھو ڈالو، پھر تین بار دھو ڈالو۔“