حدیث نمبر: 18883
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ عِيسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ يَعْلَى بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ مِنْهُ ثَلَاثَةَ أَشْيَاءَ عَجِيبَةً، قَالَ: نَزَلْنَا بِأَرْضٍ فِيهَا شَجَرٌ كَثِيرٌ فَقَالَ لِي: «اذْهَبْ إِلَى تِيكَ الشَّجَرَتَيْنِ، فَقُلْ لَهُمَا إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا» ، فَذَهَبْتُ إِلَيْهِمَا، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا فَاجْتَمَعَتَا فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ، وَقَالَ: " اذْهَبْ فَقُلْ لَهُمَا: يَتَفَرَّقَانِ "، فَقُلْتُ لَهُمَا فَتَفَرَّقَتَا، وَجَاءَتِ امْرَأَةٌ بِصَبِيٍّ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا يُصْرَعُ فِي الشَّهْرِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، قَالَ: «أَدْنِيهِ مِنِّي، فَتَفَلَ فِي فِيهِ» ، وَقَالَ: «اخْرُجْ عَدُوَّ اللهِ أَنَا رَسُولُ اللهِ» ، ثُمَّ قَالَ لَهَا: «إِذَا رَجَعْتِ فَأَعْلِمِينِي مَا صَنَعَ» فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَتْهُ بِكَبْشَيْنِ وَشَيْءٍ مِنْ سَمْنٍ وَأَقِطٍ، فَقَالَ لِي: «خُذْ مِنْهَا أَحَدَ الْكَبْشَيْنِ وَمَا مَعَهَا» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا رَأَيْتُ مِنْهُ ذَاكَ، قَالَ: «فَأَتَاهُ بَعِيرٌ فَرَأَى عَيْنَيْهِ تَسِيلَانِ» ، فَقَالَ: لِمَنْ هَذَا؟، فَقَالُوا: لِآلِ فُلَانٍ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا لِهَذَا الْبَعِيرِ يَشْكُوكُمْ؟» ، قَالُوا: كَانَ لَنَا نَاضِحًا فَكَبِرَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَنْحَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَرُوهُ فِي الْإِبِلِ فَذَرُوهُ»
ترجمہ

سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا، تو میں نے آپ ﷺ سے تین عجیب چیزیں دیکھیں۔ کہتے ہیں: ہم ایک ایسی زمین پر اترے جہاں بہت سے درخت تھے، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”ان دونوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اکٹھے ہو جاؤ۔“ میں ان کے پاس گیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اکٹھے ہو جاؤ، تو وہ دونوں اکٹھے ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی حاجت پوری کی اور فرمایا: ”جاؤ اور ان سے کہو کہ الگ ہو جائیں۔“ میں نے ان سے کہا تو وہ الگ ہو گئے۔ پھر ایک عورت ایک بچہ لے کر آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس بچے کو مہینے میں سات بار مرگی کا دورہ پڑتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے میرے قریب لاؤ“، پھر اس کے منہ میں تھوکا اور فرمایا: ”اے اللہ کے دشمن نکل جا، میں اللہ کا رسول ہوں۔“ پھر اس عورت سے فرمایا: ”جب واپس جاؤ تو مجھے بتانا کہ کیا ہوا۔“ جب وہ واپس آئی تو دو مینڈھے اور کچھ گھی اور پنیر لے کر آئی۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”ان دونوں مینڈھوں میں سے ایک اور جو کچھ اس کے ساتھ ہے، لے لو۔“ اس عورت نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اس میں دوبارہ ایسا کچھ نہیں دیکھا۔ پھر آپ ﷺ کے پاس ایک اونٹ لایا گیا تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کس کا ہے؟ لوگوں نے کہا: فلاں گھرانے کا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے پاس پیغام بھیجا اور فرمایا: ”اس اونٹ کو کیا ہوا ہے کہ وہ تمہاری شکایت کر رہا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یہ ہمارا پانی ڈھونے والا اونٹ تھا، جب یہ بوڑھا ہو گیا تو ہم نے چاہا کہ اسے ذبح کر دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اونٹوں میں ہی چھوڑ دو“، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18883
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 264، حدیث 679