حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبَكُمُ مِنِّي فِي الْآخِرَةِ مَجَالِسَ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي فِي الْآخِرَةِ مَسَاوِئِكُمْ أَخْلَاقًا الثَّرْثَارُونَ الْمُتَشَدِّقُونَ الْمُتَفَيْقِهُونَ»
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب اور آخرت میں مجھ سے سب سے قریب وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں، اور تم میں سے مجھے سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور آخرت میں مجھ سے سب سے دور وہ ہیں جن کے اخلاق سب سے برے ہیں: بہت باتیں بنانے والے، منہ پھلا کر بولنے والے، اور تصنع سے علم جتانے والے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا، وَنَهَى عَنْ أَشْيَاءَ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا، وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا، وَغَفَلَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا»
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے کچھ فرائض مقرر کیے ہیں، انہیں ضائع نہ کرو، اور کچھ چیزوں سے منع کیا ہے، انہیں پامال نہ کرو، اور کچھ حدیں مقرر کی ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو، اور کچھ چیزوں کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے، بھول کر نہیں بلکہ جان بوجھ کر، تو ان کے بارے میں کریدنے کی کوشش نہ کرو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ الْمِصِّيصِيُّ، ثَنَا الْمُحَارِبِيُّ،، عَنِ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ،، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَطْلُعُ اللهُ عَلَى عِبَادِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَيُمْهِلُ الْكَافِرِينَ، وَيَدَعُ أَهْلَ الْحِقْدِ بِحِقْدِهِمْ حَتَّى يَدْعُوهُ»
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر نظر رحمت فرماتا ہے، مومنوں کو بخش دیتا ہے، کافروں کو مہلت دیتا ہے، اور کینہ رکھنے والوں کو ان کے کینے کے ساتھ چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دیں۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ دِينَكُمْ نُبُوَّةٌ وَرَحْمَةٌ، ثُمَّ خِلَافَةٌ وَرَحْمَةٌ، ثُمَّ مُلْكًا وَجَبْرِيَّةٌ، ثُمَّ مُلْكًا عَضُوضًا يُسْتَحَلُّ فِيهِ الْحِرُ وَالْحَرِيرُ»
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تمہارا دین نبوت اور رحمت ہے، پھر خلافت اور رحمت ہے، پھر جابرانہ بادشاہت ہے، پھر ظالمانہ بادشاہت آئے گی جس میں شرمگاہ (زنا) اور ریشم حلال سمجھا جائے گا۔“