حدیث نمبر: 18807
حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَدَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ثَعْلَبَةَ، كَيْفَ تَصْنَعُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ؟، قَالَ: أَيَّةً آيَةً، قُلْتُ: قَوْلُهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: ١٠٥] ، قَالَ: أَمَا وَاللهِ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «بَلْ تَأْمُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَتَنَاهُوا عَنِ الْمُنْكَرِ، فَإِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَهَوًى مُتَّبَعًا وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ فَعَلَيْكَ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ، وَدَعْ عَنْكَ أَمْرَ الْعَوَّامِ، فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ، الصَّابِرُ فِيهِ مِثْلُ الْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ، لِلْعَامِلِ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ أَجْرُ خَمْسِينَ رَجُلًا» وَزَادَنِي غَيْرُ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَجْرُ خَمْسِينَ رَجُلًا مِنَّا أَوْ مِنْهُمْ، قَالَ: «لَا بَلْ أَجْرُ خَمْسِينَ رَجُلًا مِنْكُمْ»
ترجمہ

سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی نے ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا: ”اے ایمان والو! اپنی جانوں کی فکر کرو، جب تم ہدایت پر ہو تو جو گمراہ ہو جائے وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا“ [سورۃ المائدہ: 105]۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! تُو نے یہ سوال ایک باخبر شخص سے پوچھا ہے، میں نے یہی سوال رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ تم نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، پھر جب تُو دیکھے کہ بخل کی پیروی کی جا رہی ہے، خواہشات کی اتباع کی جا رہی ہے، دنیا کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور ہر صاحبِ رائے اپنی رائے پر مگن ہے، تو اپنی خاص ذات کی فکر کر اور عوام کے معاملے کو چھوڑ دے، کیونکہ تمہارے بعد صبر کے دن آنے والے ہیں، اس میں صبر کرنے والا انگارہ ہاتھ میں پکڑنے والے کی مانند ہو گا، اس زمانے میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کا اجر ملے گا۔“ (راوی کہتے ہیں:) عتبہ بن ابی حکیم کے سوا کسی اور راوی نے مجھے یہ اضافہ بتایا: عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! پچاس آدمیوں کا اجر ہم میں سے یا ان میں سے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم میں سے پچاس آدمیوں کا اجر۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب اللام ألف / حدیث: 18807
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 220، حدیث 587