المعجم الكبير للطبراني
باب اللام ألف— حرف لام الف
عمير بن هانئ العنسي، عن أبي ثعلبة باب: عمیر بن ہانی عنسی کی سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَرْمِي بِقَوْسِي فَمِنْهُ مَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ وَمِنْهُ مَا لَمْ أُدْرِكْ ذَكَاتَهُ مَاذَا يَحِلُّ لِي مِنْهُ وَمَاذَا يَحْرُمُ عَلَيَّ مِنْهُ وَأَنَا فِي أَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ وَهُمْ يَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ الْخِنْزِيرَ وَيَشْرَبُونَ فِيهَا الْخَمْرَ فَآكُلُ فِيهَا وَأَشْرَبُ؟ قَالَ فَصَعَّدَ فِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَصَرَ وَصَوَّبَهُ ثُمَّ قَالَ: «نُوَيْبَةُ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نويبة خَيْرٍ أَمْ نويبة شَرٍّ؟ قَالَ: «بَل نويبة خَيْرٍ» ثُمَّ قَالَ: «مَا رَدَّ إِلَيْكَ قَوْسُكَ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ مِنْهُ فَكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ عَنْ آنِيَةِ الْكُفَّارِ غِنًى فَلَا تَأْكُلْ فِيهَا، وَإِنْ لَم تَجِدْ غِنًى فَارْحَضْهَا بِالْمَاءِ رَحْضًا شَدِيدًا ثُمَّ كُلْ فِيهَا»سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: میں اہلِ کتاب کی سرزمین میں ہوں اور وہ اپنے برتنوں میں سور کھاتے اور شراب پیتے ہیں، تو کیا میں ان میں کھاؤں اور پیوں؟ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا، پھر فرمایا: ”نُویبہ۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اچھی نُویبہ ہے یا بری؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ اچھی نُویبہ۔“ پھر فرمایا: ”جو کچھ تیری کمان تیری طرف واپس لائے اور تُو اس پر اللہ کا نام لے چکا ہو تو اسے کھا، اور اگر تجھے کافروں کے برتنوں کے بغیر گزارا ہو جائے تو ان میں مت کھا، اور اگر گزارا نہ ہو تو انہیں خوب اچھی طرح پانی سے دھو لے، پھر ان میں کھا۔“