حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْعَبْدَسِيُّ، ثنا هُشَيْمُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ هَبَّارِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِدَارِ هَبَّارِ بْنِ الْأَسْوَدِ فَسَمِعَ صَوْتَ غَنَاءٍ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» ، قِيلَ: تَزْوِيجٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هَذَا النِّكَاحُ لَا السَّفَّاحُ يُرَدِّدُهَا»
ترجمہ
سیدنا ہبار بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ہبار بن اسود کے گھر کے پاس سے ہوا تو آپ ﷺ نے گانے کی آواز سنی، پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ عرض کیا گیا: شادی ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ بار بار فرمانے لگے: ”یہ نکاح ہے، بدکاری نہیں۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا هَوْبَرُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هَبَّارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: زَوَّجَ هَبَّارٌ ابْنَتَهُ فَضَرَبَ فِي عُرْسِهَا بِالْكِيرِ وَالْغِرْبَالِ فَسَمِعَ ذَلِكَ، رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالُوا: زَفَّ هَبَّارُ ابْنَتَهُ فَضَرَبَ فِي عُرْسِهَا بِالْكِيرِ وَالْغِرْبَالِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أشيدوا النِّكَاحَ أشيدوا النِّكَاحَ، هَذَا نِكَاحٌ لَا سفاحٌ»
ترجمہ
سیدنا ہبار بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کی تو اس کی خوشی میں دف اور چھلنی بجائی گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا تو پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: ہبار نے اپنی بیٹی کی رخصتی کی ہے اور اس کی خوشی میں دف اور چھلنی بجائی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نکاح کو مشہور کرو، نکاح کو مشہور کرو، یہ نکاح ہے، بدکاری نہیں۔“