کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوقلابہ کی سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ رَأْسَ الدَّجَّالِ مِنْ وَرَائِهِ حُبُكٌ وَإِنَّهُ سَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَمَنْ قَالَ: أَنْتَ رَبِّي افْتُتِنَ، وَمَنْ قَالَ: كَذَبْتَ رَبِّي اللهُ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ فَلَا يَضُرَّهُ، أَوْ قَالَ: فَلَا فِتْنَةَ عَلَيْهِ "
ترجمہ
سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دجال کے سر کے پیچھے بالوں کی لہریں ہوں گی، اور وہ کہے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ جو کوئی کہے گا: تم میرے رب ہو، وہ فتنے میں پڑ جائے گا۔ اور جو کوئی کہے گا: تو جھوٹا ہے، میرا رب اللہ ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں، تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا،“ یا فرمایا: ”اس پر کوئی فتنہ نہیں ہوگا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ويُوسُفُ الْقَاضِي قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: قَدِمَ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ الْبَصْرَةَ فَوَجَدَهُمْ يَتَبَايَعُونَ الذَّهَبَ فِي أُعْطِيَاتِهِمْ، فَقَامَ فَقَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَسِيئَةً وَأَخْبَرَنَا أَنَّ ذَلِكَ هُوَ الرِّبَا» وَاللَّفْظُ لِسُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ
ترجمہ
ابوقلابہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بصرہ تشریف لائے تو دیکھا کہ لوگ اپنی تنخواہوں میں سونا آپس میں ادھار بیچ رہے ہیں، تو وہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے سونے کو چاندی کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا اور ہمیں بتایا کہ یہ سود ہے۔“
یہ الفاظ سلیمان بن حرب کی روایت کے ہیں۔
یہ الفاظ سلیمان بن حرب کی روایت کے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثَنا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قِلَابَةَ، وَكَانَ النَّاسُ زَمَنَ ابْنِ زِيَادٍ يَأْخُذُونَ الدَّنَانِيرَ بِالدَّرَاهِمِ نَسِيئَةً، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَسِيئَةً، وَأَنْبَأَنَا أَنَّ ذَلِكَ مِنَ الرِّبَا»
ترجمہ
…ابن زیاد کے زمانے میں لوگ دینار درہموں کے بدلے ادھار لے لیا کرتے تھے، تو نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص، جسے ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے سونے کو چاندی کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا اور ہمیں بتایا کہ یہ سود میں سے ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: كَانَ نَاسٌ بِالْبَصْرَةِ زَمَانَ زِيَادٍ يَأْخُذُونَ الدَّرَاهِمَ بِالدَّنَانِيرِ نَسِيئَةً، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَسِيئًا، وَأَنْبَأَنَا أَنَّ ذَلِكَ رِبًا»
ترجمہ
…بصرہ میں زیاد کے زمانے میں لوگ دراہم دیناروں کے بدلے ادھار لیا کرتے تھے، تو نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص، جسے ہشام بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے سونے کو چاندی کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا، اور ہمیں بتایا کہ یہ سود ہے۔“