کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: معاذہ عدویہ کی سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ، ثَنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكُ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، فَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنِ الْحَقِّ مَا دَامَا عَلَى صَرْمِهِمَا، وَأَوَّلُهُمَا فَيْئًا يَكُونُ سَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَتَهُ، وَإِنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَقْبَلْ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ سَلَامَهُ رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ، وَيَرُدُّ عَلَى الْآخَرِ الشَّيْطَانُ، وَلَئِنْ مَاتَا عَلَى صَرْمِهِمَا لَمْ يَدْخُلَا الْجَنَّةَ»
ترجمہ
سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلقی کرے، کیونکہ وہ دونوں جب تک اپنی قطع تعلقی پر قائم رہیں گے حق سے ہٹے ہوئے ہوں گے، اور ان دونوں میں سے جو پہلے صلح کرے، اس کا سبقت لینا اس کا کفارہ بن جائے گا۔ اور اگر ایک نے دوسرے کو سلام کیا اور اس نے قبول نہ کیا اور جواب نہ دیا، تو فرشتے اس سلام کرنے والے کو جواب دیں گے، اور دوسرے کو شیطان جواب دے گا۔ اور اگر وہ دونوں اپنی قطع تعلقی کی حالت میں مر گئے تو جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا يَزِيدُ الرِّشْكُ، حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ هِشَامَ بْنَ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُصَارِمَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثٍ أَنَّهُمَا مَا تَصَارَمَا نَاكِبَانِ عَنِ الْحَقِّ، وَإِنَّ أَوَّلَهُمَا فَيْئًا يَكُونُ سَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَتَهُ؛ وَلِأَنَّهُمَا إِنْ مَاتَا فِي صَرْمِهِمَا لَمْ يَدْخُلَا الْجَنَّةَ جَمِيعًا أَبَدًا، وَإِنَّهُ إِنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَقْبَلْ سَلَمَهُ وَسَلَامَهُ رَدَّ عَلَيْهِ الْمَلَكُ وَعَلَى الْآخَرِ الشَّيْطَانُ»
ترجمہ
سیدنا ہشام بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے، وہ دونوں جب تک قطع تعلقی پر رہیں گے حق سے ہٹے ہوئے ہوں گے، اور ان دونوں میں سے جو پہلے صلح کرے، اس کا سبقت لینا اس کا کفارہ بن جائے گا۔ اور اگر وہ دونوں اپنی قطع تعلقی کی حالت میں مر گئے تو کبھی بھی دونوں اکٹھے جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ اور اگر ایک نے دوسرے کو سلام کیا اور اس نے اس کی صلح اور سلام قبول نہ کیا تو فرشتہ اس سلام کرنے والے کو جواب دے گا اور دوسرے کو شیطان جواب دے گا۔“