حدیث نمبر: 18675
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا يَزِيدُ الرِّشْكُ، حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ هِشَامَ بْنَ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُصَارِمَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثٍ أَنَّهُمَا مَا تَصَارَمَا نَاكِبَانِ عَنِ الْحَقِّ، وَإِنَّ أَوَّلَهُمَا فَيْئًا يَكُونُ سَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَتَهُ؛ وَلِأَنَّهُمَا إِنْ مَاتَا فِي صَرْمِهِمَا لَمْ يَدْخُلَا الْجَنَّةَ جَمِيعًا أَبَدًا، وَإِنَّهُ إِنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَقْبَلْ سَلَمَهُ وَسَلَامَهُ رَدَّ عَلَيْهِ الْمَلَكُ وَعَلَى الْآخَرِ الشَّيْطَانُ»
ترجمہ

سیدنا ہشام بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے، وہ دونوں جب تک قطع تعلقی پر رہیں گے حق سے ہٹے ہوئے ہوں گے، اور ان دونوں میں سے جو پہلے صلح کرے، اس کا سبقت لینا اس کا کفارہ بن جائے گا۔ اور اگر وہ دونوں اپنی قطع تعلقی کی حالت میں مر گئے تو کبھی بھی دونوں اکٹھے جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ اور اگر ایک نے دوسرے کو سلام کیا اور اس نے اس کی صلح اور سلام قبول نہ کیا تو فرشتہ اس سلام کرنے والے کو جواب دے گا اور دوسرے کو شیطان جواب دے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الهاء / حدیث: 18675
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 175، حدیث 455