حدیث نمبر: 18674
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ، ثَنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكُ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، فَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنِ الْحَقِّ مَا دَامَا عَلَى صَرْمِهِمَا، وَأَوَّلُهُمَا فَيْئًا يَكُونُ سَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَتَهُ، وَإِنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَقْبَلْ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ سَلَامَهُ رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ، وَيَرُدُّ عَلَى الْآخَرِ الشَّيْطَانُ، وَلَئِنْ مَاتَا عَلَى صَرْمِهِمَا لَمْ يَدْخُلَا الْجَنَّةَ»
ترجمہ

سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلقی کرے، کیونکہ وہ دونوں جب تک اپنی قطع تعلقی پر قائم رہیں گے حق سے ہٹے ہوئے ہوں گے، اور ان دونوں میں سے جو پہلے صلح کرے، اس کا سبقت لینا اس کا کفارہ بن جائے گا۔ اور اگر ایک نے دوسرے کو سلام کیا اور اس نے قبول نہ کیا اور جواب نہ دیا، تو فرشتے اس سلام کرنے والے کو جواب دیں گے، اور دوسرے کو شیطان جواب دے گا۔ اور اگر وہ دونوں اپنی قطع تعلقی کی حالت میں مر گئے تو جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الهاء / حدیث: 18674
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 175، حدیث 454