حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَتْنِي بِنْتُ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عَنْ أَبِيهَا قَالَ: قُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللهِ، الرَّجُلُ يُحِبُّ قَوْمَهُ، أَعَصِبِيٌّ هُوَ؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: مَنَ الْعَصَبِيُّ؟ قَالَ: «الَّذِي يُعِينُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ»
ترجمہ
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اپنے والد سے روایت کرتی ہیں، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جو آدمی اپنی قوم سے محبت کرتا ہے، کیا وہ عصبیت والا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: عصبیت والا کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جو اپنی قوم کی ظلم پر مدد کرے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ: حَدَّثَتْنَا خُصَيْلَةُ بِنْتُ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْعَصَبِيَّةُ؟ قَالَ: «أَنْ تُعِينَ قَوْمَكَ عَلَى الظُّلْمِ»
ترجمہ
سیدہ خصیلہ بنت واثلہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! عصبیت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنی قوم کی ظلم پر مدد کرو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنُ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الصَّدَفِيُّ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ وَمِائَتَيْنِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْأَشْقَرِ اللَّخْمِيُّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي خُصَيْلَةُ بِنْتُ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ»
ترجمہ
سیدہ خصیلہ بنت واثلہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”سب سے بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی مجھ پر ایسی بات کہے جو میں نے نہیں کہی۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنُ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الصَّدَفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْأَشْقَرِ اللَّخْمِيُّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي خُصَيْلَةُ بِنْتُ وَاثِلَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ يَنْتَفِيَ الرَّجُلُ مِنْ وَلَدِهِ»
ترجمہ
سیدہ خصیلہ بنت واثلہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”سب سے بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنی اولاد سے (نسب کا) انکار کرے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْأَشْقَرِ قَالَ: حَدَّثَتْنِي خُصَيْلَةُ بِنْتُ وَاثِلَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: " {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى} [الأعلى: ١٥] إِلْقَاءُ الْقَمْحِ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ فِي الْمُصَلَّى "
ترجمہ
سیدہ خصیلہ بنت واثلہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا: ”یقیناً وہ کامیاب ہو گیا جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام لے کر نماز پڑھی“ [سورۃ الاعلیٰ: 15] (کا مطلب یہ ہے کہ) عید الفطر کے دن نماز سے پہلے عیدگاہ میں گندم (صدقہ فطر کے طور پر) دینا مراد ہے۔