کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: خصیلہ بنت واثلہ کی اپنے والد سے روایت
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَتْنِي بِنْتُ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عَنْ أَبِيهَا قَالَ: قُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللهِ، الرَّجُلُ يُحِبُّ قَوْمَهُ، أَعَصِبِيٌّ هُوَ؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: مَنَ الْعَصَبِيُّ؟ قَالَ: «الَّذِي يُعِينُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ»
ترجمہ
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اپنے والد سے روایت کرتی ہیں، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جو آدمی اپنی قوم سے محبت کرتا ہے، کیا وہ عصبیت والا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: عصبیت والا کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جو اپنی قوم کی ظلم پر مدد کرے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18455
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 97، حدیث 235
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ: حَدَّثَتْنَا خُصَيْلَةُ بِنْتُ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْعَصَبِيَّةُ؟ قَالَ: «أَنْ تُعِينَ قَوْمَكَ عَلَى الظُّلْمِ»
ترجمہ
سیدہ خصیلہ بنت واثلہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! عصبیت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنی قوم کی ظلم پر مدد کرو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18456
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 98، حدیث 236
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنُ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الصَّدَفِيُّ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ وَمِائَتَيْنِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْأَشْقَرِ اللَّخْمِيُّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي خُصَيْلَةُ بِنْتُ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ»
ترجمہ
سیدہ خصیلہ بنت واثلہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”سب سے بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی مجھ پر ایسی بات کہے جو میں نے نہیں کہی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18457
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 98، حدیث 237
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنُ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الصَّدَفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْأَشْقَرِ اللَّخْمِيُّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي خُصَيْلَةُ بِنْتُ وَاثِلَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ يَنْتَفِيَ الرَّجُلُ مِنْ وَلَدِهِ»
ترجمہ
سیدہ خصیلہ بنت واثلہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”سب سے بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنی اولاد سے (نسب کا) انکار کرے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18458
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 98، حدیث 238
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْأَشْقَرِ قَالَ: حَدَّثَتْنِي خُصَيْلَةُ بِنْتُ وَاثِلَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: " {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى} [الأعلى: ١٥] إِلْقَاءُ الْقَمْحِ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ فِي الْمُصَلَّى "
ترجمہ
سیدہ خصیلہ بنت واثلہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا: ”یقیناً وہ کامیاب ہو گیا جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام لے کر نماز پڑھی“ [سورۃ الاعلیٰ: 15] (کا مطلب یہ ہے کہ) عید الفطر کے دن نماز سے پہلے عیدگاہ میں گندم (صدقہ فطر کے طور پر) دینا مراد ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18459
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 98، حدیث 239