حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ إِذْ ذَكَرُوا عَلِيًّا فَشَتَمُوهُ، فَلَمَّا قَامُوا قَالَ: اجْلِسْ حَتَّى أُخْبِرَكَ عَنْ هَذَا الَّذِي شَتَمُوا، إِنِّي عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ جَاءَ عَلِيٌّ، وَفَاطِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ كِسَاءً لَهُ ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، اللهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنَا. قَالَ: «وَأَنْتَ» قَالَ: فَوَاللهِ إِنَّهَا لَأَوْثَقُ عَمَلِي فِي نَفْسِي "
ترجمہ
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا کہ سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم آئے، تو آپ ﷺ نے ان پر اپنی چادر ڈال دی، پھر فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں، اے اللہ! ان سے ناپاکی دور فرما اور انہیں خوب پاک کر دے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور میں بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور تُو بھی۔“ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! یہ میرے نزدیک میرے سب سے قابلِ اعتماد عمل ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقَرْقَسَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ التِّنِّيسِيُّ قَالَا ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ شَدَّادُ قَالَ: قَالَ وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيُّ: كُنْتُ أُرِيدُ عَلِيًّا فَلَمْ أَجِدْهُ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: انْطَلَقْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ حَتَّى يَأْتِيَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فَدَخَلَا فَدَخَلْتُ مَعَهُمَا فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا، فَأَجْلَسَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذِهِ وَأَدْنَى فَاطِمَةَ مِنْ حِجْرِهِ، ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمَا ثَوْبَهُ، وَأَنَا مُسْنِدٌ، ثُمَّ قَالَ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] ثُمَّ قَالَ: «هَؤُلَاءِ أَهْلِي هَؤُلَاءِ أَهْلِي أَحَقُّ» قَالَ وَاثِلَةُ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنَا مِنْ أَهْلِكَ؟ قَالَ: «وَأَنْتَ مِنْ أَهْلِي» قَالَ وَاثِلَةُ: وَإِنَّهُ لَمِنْ أَرْجَى مَا أَرْجُوهُ "
ترجمہ
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان دونوں پر اپنا کپڑا لپیٹ دیا، اور میں (پاس) ٹیک لگائے بیٹھا تھا، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”اے اہل بیت! اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ [سورۃ الاحزاب: 33]، پھر فرمایا: ”یہ میرے اہل ہیں، یہ میرے اہل ہیں، ان کا حق زیادہ ہے۔“ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی آپ کے اہل میں سے ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور تُو بھی میرے اہل میں سے ہے۔“ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ بات ان چیزوں میں سے ہے جن کی مجھے سب سے زیادہ امید ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو زَيْدٍ الْحَوْطِيُّ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقَرْقَسَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ التِّنِّيسِيُّ قَالُوا: ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا شَدَّادُ أَبُو عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ اصْطَفَى بَنِي كِنَانَةَ مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ وَاصْطَفَى مِنْ كِنَانَةَ قُرَيْشًا وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ»
ترجمہ
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے بنو اسماعیل میں سے بنو کنانہ کو چن لیا، اور کنانہ میں سے قریش کو چن لیا، اور قریش میں سے بنو ہاشم کو چن لیا، اور بنو ہاشم میں سے مجھے چن لیا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمَقْدِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا شَدَّادُ أَبُو عَمَّارٍ، أَنَّ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، حَدَّثَهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ مَرَّتَيْنِ، وَأُقِيمَتَ الصَّلَاةُ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا تَوَضَّأْتَ حِينَ أَقْبَلْتَ» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «وَصَلَّيْتَ مَعَنَا» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَاذْهَبْ فَإِنَّ اللهَ قَدْ عَفَا عَنْكَ»
ترجمہ
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کچھ عرض کرنا چاہا تو) آپ ﷺ نے دو بار اس کی طرف توجہ نہ فرمائی، پھر نماز کھڑی ہو گئی۔ جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ سے ایک حد کا کام سرزد ہوا ہے، مجھ پر اسے قائم فرمائیے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تُو نے آتے وقت وضو کیا تھا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور ہمارے ساتھ نماز پڑھی؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو جا، اللہ نے تجھے معاف کر دیا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّحْوِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ شَدَّادِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔