حدیث نمبر: 18380
حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقَرْقَسَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ التِّنِّيسِيُّ قَالَا ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ شَدَّادُ قَالَ: قَالَ وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيُّ: كُنْتُ أُرِيدُ عَلِيًّا فَلَمْ أَجِدْهُ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: انْطَلَقْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ حَتَّى يَأْتِيَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فَدَخَلَا فَدَخَلْتُ مَعَهُمَا فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا، فَأَجْلَسَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذِهِ وَأَدْنَى فَاطِمَةَ مِنْ حِجْرِهِ، ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمَا ثَوْبَهُ، وَأَنَا مُسْنِدٌ، ثُمَّ قَالَ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] ثُمَّ قَالَ: «هَؤُلَاءِ أَهْلِي هَؤُلَاءِ أَهْلِي أَحَقُّ» قَالَ وَاثِلَةُ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنَا مِنْ أَهْلِكَ؟ قَالَ: «وَأَنْتَ مِنْ أَهْلِي» قَالَ وَاثِلَةُ: وَإِنَّهُ لَمِنْ أَرْجَى مَا أَرْجُوهُ "
ترجمہ

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان دونوں پر اپنا کپڑا لپیٹ دیا، اور میں (پاس) ٹیک لگائے بیٹھا تھا، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”اے اہل بیت! اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ [سورۃ الاحزاب: 33]، پھر فرمایا: ”یہ میرے اہل ہیں، یہ میرے اہل ہیں، ان کا حق زیادہ ہے۔“ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی آپ کے اہل میں سے ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور تُو بھی میرے اہل میں سے ہے۔“ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ بات ان چیزوں میں سے ہے جن کی مجھے سب سے زیادہ امید ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18380
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 66، حدیث 160