المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
شداد أبو عمار، عن واثلة باب: شداد ابوعمار کی سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقَرْقَسَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ التِّنِّيسِيُّ قَالَا ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ شَدَّادُ قَالَ: قَالَ وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيُّ: كُنْتُ أُرِيدُ عَلِيًّا فَلَمْ أَجِدْهُ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: انْطَلَقْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ حَتَّى يَأْتِيَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فَدَخَلَا فَدَخَلْتُ مَعَهُمَا فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا، فَأَجْلَسَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذِهِ وَأَدْنَى فَاطِمَةَ مِنْ حِجْرِهِ، ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمَا ثَوْبَهُ، وَأَنَا مُسْنِدٌ، ثُمَّ قَالَ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] ثُمَّ قَالَ: «هَؤُلَاءِ أَهْلِي هَؤُلَاءِ أَهْلِي أَحَقُّ» قَالَ وَاثِلَةُ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنَا مِنْ أَهْلِكَ؟ قَالَ: «وَأَنْتَ مِنْ أَهْلِي» قَالَ وَاثِلَةُ: وَإِنَّهُ لَمِنْ أَرْجَى مَا أَرْجُوهُ "سیدنا واثلہ بن اسقع لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملنا چاہتا تھا مگر وہ نہ ملے، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ رسول اللہ ﷺ کو بلانے گئے ہیں، (تم ٹھہرو) یہاں تک کہ وہ آ جائیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور وہ (علی) بھی ساتھ تھے، دونوں اندر داخل ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ داخل ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو بلایا اور ان میں سے ہر ایک کو اپنی ایک ران پر بٹھا لیا، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنی گود کے قریب کر لیا، پھر ان دونوں پر اپنا کپڑا لپیٹ دیا، اور میں (پاس) ٹیک لگائے بیٹھا تھا، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”اے اہل بیت! اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ [سورۃ الاحزاب: 33]، پھر فرمایا: ”یہ میرے اہل ہیں، یہ میرے اہل ہیں، ان کا حق زیادہ ہے۔“ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی آپ کے اہل میں سے ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور تُو بھی میرے اہل میں سے ہے۔“ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ بات ان چیزوں میں سے ہے جن کی مجھے سب سے زیادہ امید ہے۔