کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ام یحییٰ، سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی زوجہ، کی ان سے روایت
حَدَّثَنَا أَبُو هِنْدٍ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُجْرِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ بِالْكُوفَةِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ يَحْيَى، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: لَمَّا بَلَغَنَا ظُهُورُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجْتُ، وَافِدًا عَنْ قَوْمِي حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيتُ أَصْحَابَهُ قَبْلَ لِقَائِهِ فَقَالُوا: قَدْ بَشَّرْنَا بِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُقِدَمَ عَلَيْنَا بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَقَالَ: «قَدْ جَاءَكُمْ وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ» ثُمَّ لَقِيتُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَرَحَّبَ بِي، وأَدْنَا مَجْلِسِي، وَبَسَطَ لِي رِدَاءَهُ فَأَجْلَسَنِي عَلَيْهِ، ثُمَّ دَعَا فِي النَّاسِ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، ثُمَّ اطَّلَعَ الْمِنْبَرَ، وأَطْلَعَنِي مَعَهُ فَأَنَا مِنْ دُونِهِ، ثُمَّ حَمِدَ اللهَ وَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَذَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ أَتَاكُمْ مِنْ بِلَادٍ بَعِيدَةٍ مِنْ بِلَادِ حَضْرَمَوْتَ طَائِعًا غَيْرَ مُكْرِهٍ بَقِيَّةُ، أَبْنَاءِ الْمُلُوكِ، بَارَكَ اللهُ فِيكَ، يَا وَائِلُ، وَفِي وَلَدِكَ، وَفِي وَلَدِ وَلَدِكَ» ، ثُمَّ نَزَلَ وَأَنْزَلَنِي مَعَهُ وَأَنْزَلَنِي مَنْزِلًا شَاسَعًا مِنَ الْمَدِينَةِ، وَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ أَنْ يُنْزِلَنِي إِيَّاهُ، فَخَرَجْتُ وَخَرَجَ مَعِي حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ: يَا وَائِلُ، إِنَّ الرَّمْضَاءَ قَدْ أَصَابَتْ بَاطِنَ قَدَمَيَّ فَأَرْدَفَنِي خَلْفَكَ، قُلْتُ: مَا أَضِنُّ عَنْكَ بِهَذِهِ النَّاقَةِ، وَلَكِنْ لَسْتَ مِنْ أَرْدَافِ الْمُلُوكِ، وَأَكْرَهُ أَنْ أُعَيَّرَ بِكَ قَالَ: فَأَلْقِ إِلَيَّ حِذَاءَكَ أَتَوَقَّى بِهِ مِنْ حَرِّ الشَّمْسِ قَالَ: مَا أَضِنُّ عَنْكَ بِهَاتَيْنِ الْجِلْدَتَيْنِ، وَلَكِنْ لَسْتَ مِمَّنْ يَلْبَسُ لِبَاسَ الْمُلُوكِ، وَأَكْرَهُ أَنْ أُعَيَّرَ بِكَ، فَلَمَّا أَرَدْتُ الرُّجُوعَ إِلَى قَوْمِي أَمَرَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكُتُبٍ ثَلَاثَةٍ مِنْهَا: كِتَابٌ لِي خَالِصٌ يُفَضِّلُنِي فِيهِ عَلَى قَوْمِي، وَكِتَابٌ لِي وَلِأَهْلِ بَيْتِي بِأَمْوَالِنَا هُنَالِكَ، وَبكِتَابٌ لِي وَلِقَوْمِي، فِي كِتَابِي الْخَالِصِ، بِسْمِ اللهِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى الْمُهَاجِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ: أَنَّ وَائِلًا يَسْتَسْعَى وَيَتَرَفَّلُ فِي الْأَقْبَالِ حَيْثُ كَانُوا مِنْ حَضْرَمَوْتَ، وَفِي كِتَابِي الَّذِي لِي وَلِأَهْلِ بَيْتِي، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى الْمُهَاجِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ لِأَبْنَاءِ مَعْشَرٍ، وَأَبْنَاءِ ضِمْعَاجٍ أَقْيَالُ شَنُوءَةَ بِمَا كَانَ لَهُمْ فِيهَا مِنْ مُلْكٍ ومَرَاهِنَ، وَعِمْرَانَ، وَبَحْرٍ، وَمِلْحٍ، وَمَحْجَرٍ، وَمَا كَانَ مِنْ مَالٍ أَترَّثُوهُ وَمَاءٍ يَنَابِعَ وَمَا لَهُمْ فِيهَا مِنْ مَالٍ بِحَضْرَمَوْتَ أَعْلَاهَا وأَسْفَلَهَا عَلَى الذِّمَّةِ وَالْجِوَارِ، اللهُ لَهُمْ جَارٌ، وَالْمُؤْمِنُونَ عَلَى ذَلِكَ أَنْصَارٌ، وَفِي الْكِتَابِ الَّذِي لِي وَلِقَوْمِي، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَالْأَقْوَالُ الْعَيَاهِلَةِ مِنْ حَضْرَمَوْتَ بإِقامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ مِنَ الصِّرْمَةِ التَّبِعَةِ، وَلِصَاحِبِهَا الثِّيمَةُ لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ وَلَا وِرَاطَ فِي الْإِسْلَامِ، لِكُلِّ عَشَرَةٍ مِنَ السَّرَايَا مَا يَحْمِلُ الْقِرَابُ مِنَ التَّمْرِ مِنْ أَجْبَا فَقَدْ أَرْبَى، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، فَلَمَّا مَلَكَ مُعَاوِيَةُ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ، يُقَالُ لَهُ بُسْرُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَقَالَ لَهُ: لَقَدْ ضَمَمْتَ إِلَيْكَ النَّاحِيَةَ فَاخْرَجْ بِجَيْشِكَ، فَإِذَا خَلَّفْتَ أَفْوَاهَ الشَّامِ فَضَعْ سَيْفَكَ، فَاقْتُلْ مَنْ أَبَى بَيْعَتِي حَتَّى تَصِيرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، ثُمَّ ادْخُلِ الْمَدِينَةَ فَاقْتُلْ مَنْ أَبَى بَيْعَتِي، ثُمَّ اخْرُجْ إِلَى حَضْرَمَوْتَ فَاقْتُلْ مَنْ أَبَى بَيْعَتِي، وَإِنْ أَصَبْتَ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ حَيًّا فَائْتِنِي بِهِ فَفَعَلَ فَأَصَابَ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ حَيًّا، فَجَاءَ بِهِ إِلَيْهِ فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ أَنْ يَتَلَقَّى وَأَذِنَ لَهُ فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى سَرِيرِهِ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: أَسَرِيرِي هَذَا أَفْضَلُ أَمْ ظَهْرُ نَاقَتِكَ؟، قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، كُنْتُ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَكُفْرٍ، وَكَانَتَ تِلْكَ سِيرَةَ الْجَاهِلِيَّةِ، وَقَدْ أَتَانَا اللهُ الْيَوْمَ بِالْإِسْلَامِ فَسِيرَةُ الْإِسْلَامِ مَا فَعَلْتَ قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ مِنْ نَصْرِنَا وَقَدِ اتَّخَذَكَ عُثْمَانُ ثِقَةً وَصِهْرًا؟، قُلْتُ: إِنَّكَ قَاتَلْتَ رَجُلًا هُوَ أَحَقُّ بِعُثْمَانَ مِنْكَ قَالَ: فَكَيْفَ يَكُونُ أَحَقَّ بِعُثْمَانَ مِنِّي فَأَنَا أَقْرَبُ إِلَى عُثْمَانَ بالنَّسَبِ؟، قُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَا بَيْنَ عَلِيٍّ، وَعُثْمَانَ، وَالْأَخُ أَوْلَى مِنِ ابْنِ الْعَمِّ، وَلَسْتُ أُقَاتِلُ الْمُهَاجِرِينَ قَالَ: أَوَلَسْنَا مُهَاجِرِينَ؟، قُلْتُ: أَوَلَيْسَ قَدِ اعْتَزَلْنَاكُمَا جَمِيعًا؟ وَحُجَّةٌ أُخْرَى حَضَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَفَعَ رَأْسَهُ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، وَقَدْ حَضَرَهُ جَمْعٌ كَثِيرٌ ثُمَّ رَدَّ إِلَيْهِ بَصَرَهُ فَقَالَ: «أَتَتْكُمُ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ فَشَدَّ أَمْرَهَا وَعَجَّلَهُ وَقَبَّحَهُ» ، قُلْتُ لَهُ: مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا الْفِتَنُ؟ قَالَ: «يَا وَائِلُ، إِذَا اخْتَلَفَ سَيْفَانِ فِي الْإِسْلَامِ فَاعْتَزِلْهُمَا» فَقَالَ: أَصْبَحْتَ شِيعِيًّا، فَقُلْتُ: لَا، وَلَكِنْ أَصْبَحْتُ نَاصِحًا لِلْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَوْ سَمِعْتُ ذَا وَعَلِمْتُهُ مَا أَقْدَمْتُكَ، قُلْتُ: أَوَلَيْسَ قَدْ رَأَيْتَ مَا صَنَعَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ عِنْدَ مَقْتَلِ عُثْمَانَ أَوْمَأَ بِسَيْفِهِ إِلَى صَخْرَةٍ فَضَرَبَهُ بِهَا حَتَّى انْكَسَرَ؟ قَالَ: أُولَئِكَ قَوْمٌ يَحْمِلُونَ عَلَيْنَا، قُلْتُ: فَكَيْفَ نَصْنَعُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ فَبِحُبِّي وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي؟، فَقَالَ: اخْتَرْ أَيَّ الْبِلَادِ شِئْتَ، فَإِنَّكَ لَسْتَ بِرَاجِعٍ إِلَى حَضْرَمَوْتَ، فَقُلْتُ: عَشِيرَتِي بِالشَّامِ وَأَهْلُ بَيْتِي بِالْكُوفَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِكَ خَيْرٌ مِنْ عَشَرَةٍ مِنْ عَشِيرَتَكَ، فَقُلْتُ: مَا رَجَعْتُ إِلَى حَضْرَمَوْتَ سُرُورًا بِهَا، وَمَا يَنْبَغِي لِلْمُهَاجِرِ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي هَاجَرَ مِنْهُ إِلَّا مِنْ عِلَّةٍ قَالَ: وَمَا عِلَّتُكَ؟، قُلْتُ: قَوْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ «فَحَيْثُ اخْتَلَفْتُمِ اعْتَزْلَنَاكُمْ وَحَيْثُ اجْتَمَعْتُمْ جِئْنَاكُمْ» فَهَذِهِ الْعِلَّةُ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ وَلَّيْتُكَ الْكُوفَةَ فَسِرْ إِلَيْهَا، فَقُلْتُ: مَا إِلَيَّ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَحَدٍ أَمَا رَأَيْتَ أَبَا بَكْرٍ قَدْ أَرَادَنِي فَأَبَيْتُ، وَأَرَادَنِي عُمَرُ فَأَبَيْتُ، وَأَرَادَنِي عُثْمَانُ فَأَبَيْتُ، وَلَمْ أَدَعْ بَيْعَتَهُمْ قَدْ جَاءَ فِي كِتَابِ أَبِي بَكْرٍ حَيْثُ ارْتَدَّ أَهْلُ نَاحِيتِنَا، فَقُمْتُ فِيهِمْ حَتَّى رَدَّهُمُ اللهُ إِلَى الْإِسْلَامِ بِغَيْرِ وِلَايَةٍ فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ابْنَ أُمِّ الْحَكَمِ، فَقَالَ لَهُ: سِرْ فَقَدْ وَلَّيْتُكَ الْكُوفَةَ وَسِرْ بوائلِ بْنِ حُجْرٍ فَأَكْرِمْهُ وأَقْضِ حَوَائِجَهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَسَأْتَ فِيَّ الظَّنِّ تَأْمُرُنِي بِإِكْرَامِ رَجُلٍ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْرَمَهُ وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَأَنْتَ قَالَ: فَسِرْ بِمَعْرِفَةِ ذَلِكَ مِنْهُ فَقَدِمَ مَعَهُ
ترجمہ
...اپنی قوم کی طرف سے وفد بن کر آیا، یہاں تک کہ مدینہ پہنچا۔ میں نے آپ ﷺ سے ملنے سے پہلے آپ ﷺ کے صحابہ سے ملاقات کی تو انہوں نے کہا: ہم نے تین دن پہلے، اس سے پہلے کہ تم ہمارے پاس پہنچو، رسول اللہ ﷺ کو تمہاری خوشخبری سنا دی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”تمہارے پاس وائل بن حجر آئے ہیں۔“ پھر میں آپ ﷺ سے ملا، آپ ﷺ نے میرا استقبال کیا، اور مجھے اپنے قریب بٹھایا، اور اپنی چادر بچھا کر مجھے اس پر بٹھایا، پھر لوگوں کو بلایا تو وہ آپ ﷺ کے پاس جمع ہو گئے، پھر آپ ﷺ منبر پر چڑھے اور مجھے بھی اپنے ساتھ چڑھایا، میں آپ ﷺ سے نیچے کے درجے پر تھا، پھر آپ ﷺ نے اللہ کی حمد بیان کی اور فرمایا: ”اے لوگو! یہ وائل بن حجر ہیں، یہ دور دراز علاقے حضرموت سے اپنی خوشی سے، بغیر کسی جبر کے، تمہارے پاس آئے ہیں، یہ بادشاہوں کی نسل میں سے باقی ماندہ ہیں، اے وائل! اللہ تمہیں اور تمہاری اولاد کو اور تمہاری اولاد کی اولاد کو برکت دے۔“ پھر آپ ﷺ اترے اور مجھے بھی اپنے ساتھ اتارا، اور مجھے مدینہ سے دور ایک جگہ ٹھہرایا، اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ مجھے وہاں ٹھہرائیں۔ میں نکلا اور وہ میرے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب ہم راستے میں تھے تو انہوں نے کہا: اے وائل! تپتی ریت نے میرے پاؤں کے تلووں کو جلا دیا ہے، مجھے اپنے پیچھے سوار کر لو۔ میں نے کہا: میں تمہیں اپنی اس اونٹنی پر سوار کرنے سے بخل نہیں کرتا، لیکن تم بادشاہوں کے پیچھے سوار ہونے والوں میں سے نہیں ہو، اور میں پسند نہیں کرتا کہ تمہاری وجہ سے مجھے طعنہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا: تو اپنی جوتیاں مجھے دے دو تاکہ میں ان سے سورج کی گرمی سے بچ سکوں۔ میں نے کہا: میں تمہیں ان دو چمڑوں سے بخل نہیں کرتا، لیکن تم بادشاہوں کا لباس پہننے والوں میں سے نہیں ہو، اور میں پسند نہیں کرتا کہ تمہاری وجہ سے مجھے طعنہ دیا جائے۔ جب میں نے اپنی قوم کی طرف واپس جانے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے تین خط لکھوائے، ان میں سے ایک خط خاص میرے لیے تھا جس میں مجھے میری قوم پر فضیلت دی گئی تھی، ایک خط میرے اور میرے اہلِ خانہ کے لیے تھا جو وہاں (حضرموت) میں ہمارے اموال کے بارے میں تھا، اور ایک خط میرے اور میری قوم کے لیے تھا۔ میرے خاص خط میں یہ تھا: ”اللہ کے نام سے، محمد رسول اللہ کی طرف سے مہاجر بن ابی امیہ کے نام: وائل حضرموت کے اقوام میں جہاں کہیں بھی ہوں، (زکوٰۃ وصولی کی) کوشش کر سکتے ہیں اور آگے آگے رہ سکتے ہیں۔“ اور جو خط میرے اور میرے اہلِ خانہ کے لیے تھا اس میں یہ تھا: ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے، محمد رسول اللہ کی طرف سے مہاجر بن ابی امیہ کے نام: بنو معشر اور بنو ضمعاج، جو شنوءہ کے سردار ہیں، کے لیے، ان کی اس ملکیت کے بارے میں جو انہیں پہلے سے حاصل تھی، یعنی چراگاہیں، آبادیاں، سمندر، نمک اور محفوظ چراگاہیں، اور جو مال انہیں وراثت میں ملا اور چشموں کا پانی، اور جو مال حضرموت میں ان کا ہے - بالائی ہو یا زیریں - یہ سب ان کے لیے ذمہ و پناہ کی بنیاد پر ہے، اللہ ان کا محافظ ہے اور مومنین اس پر مددگار ہیں۔“ اور جو خط میرے اور میری قوم کے لیے تھا اس میں یہ تھا: ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے، محمد رسول اللہ کی طرف سے وائل بن حجر اور حضرموت کے سرداروں کی طرف: نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم، مویشیوں میں جو زکوٰۃ واجب ہو اس کے مطابق، اور مالک کے لیے (زکوٰۃ لینے والے کی) میزبانی کا حق ہے۔ اسلام میں نہ (زکوٰۃ سے بچنے کے لیے مویشی) جمع کرنا جائز ہے، نہ دور لے جانا، نہ عورتوں کا تبادلہ کر کے نکاح کرنا، نہ دھوکہ دہی۔ ہر دس سریوں (فوجی دستوں) کے لیے اتنی کھجور جتنی ایک تھیلا اٹھا سکے۔ جس نے کمی کی وہ سود خور ہوا، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ جب معاویہ رضی اللہ عنہ حکمران بنے تو انہوں نے قریش کے ایک شخص کو بھیجا جسے بسر بن ارطاۃ کہا جاتا تھا، اور اس سے کہا: میں نے یہ علاقہ تمہارے سپرد کیا ہے، اپنے لشکر کے ساتھ نکلو، جب شام کے راستے پیچھے چھوڑ دو تو اپنی تلوار اٹھاؤ، اور جو میری بیعت سے انکار کرے اسے قتل کرتے جاؤ یہاں تک کہ مدینہ پہنچ جاؤ، پھر مدینہ میں داخل ہو کر جو میری بیعت سے انکار کرے اسے قتل کرو، پھر حضرموت کی طرف نکلو اور جو میری بیعت سے انکار کرے اسے قتل کرو، اور اگر تمہیں وائل بن حجر زندہ ملے تو اسے میرے پاس لے آنا۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور وائل بن حجر کو زندہ پا لیا، اسے معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کا استقبال کیا جائے اور اسے اجازت دی، پھر اسے اپنے ساتھ اپنے تخت پر بٹھایا اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا میرا یہ تخت بہتر ہے یا تمہاری اونٹنی کی پیٹھ؟ میں نے عرض کیا: اے امیر المومنین! میں ابھی جاہلیت و کفر سے تازہ تازہ نکلا تھا، اور یہ (انکار) جاہلیت کا طریقہ تھا، اور آج اللہ نے ہمیں اسلام عطا کیا ہے، تو اسلام کا طریقہ وہی ہے جو میں نے کیا۔ انہوں نے کہا: تو تمہیں ہماری مدد کرنے سے کس چیز نے روکا، حالانکہ عثمان رضی اللہ عنہ نے تمہیں معتمد اور داماد بنایا تھا؟ میں نے کہا: تم نے ایک ایسے شخص سے جنگ کی جو عثمان کا تم سے زیادہ حق دار ہے۔ انہوں نے کہا: وہ عثمان کا مجھ سے زیادہ حق دار کیسے ہو سکتا ہے، حالانکہ میں نسب میں عثمان کے زیادہ قریب ہوں؟ میں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے علی اور عثمان رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ کرایا تھا، اور بھائی چچازاد سے مقدم ہوتا ہے، اور میں مہاجرین سے جنگ نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا: کیا ہم مہاجرین نہیں ہیں؟ میں نے کہا: کیا ہم نے تم دونوں سے یکساں کنارہ کشی نہیں کی؟ اور ایک اور دلیل یہ ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا، آپ ﷺ نے اپنا سر مشرق کی طرف اٹھایا، اور بہت سے لوگ حاضر تھے، پھر اپنی نگاہ ان کی طرف لوٹائی اور فرمایا: ”تمہارے پاس فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح آئیں گے“ اور اس کے معاملے کو سخت، جلد آنے والا اور برا قرار دیا، میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! فتنے کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے وائل! جب اسلام میں دو تلواریں آپس میں ٹکرائیں تو دونوں سے الگ ہو جاؤ۔“ تو (معاویہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: تم تو شیعی ہو گئے! میں نے کہا: نہیں، بلکہ میں مسلمانوں کا خیرخواہ ہو گیا ہوں۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں یہ سنتا اور جانتا تو تمہیں یہاں نہ لاتا۔ میں نے کہا: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت کیا کیا؟ انہوں نے اپنی تلوار سے ایک چٹان کی طرف اشارہ کیا اور اسے اس پر مارا یہاں تک کہ وہ ٹوٹ گئی؟ انہوں نے کہا: وہ ایسے لوگ ہیں جو ہمارے خلاف ہو گئے۔ میں نے کہا: تو رسول اللہ ﷺ کے اس قول کا ہم کیا کریں: ”جو انصار سے محبت کرے وہ میری محبت کی وجہ سے، اور جو ان سے بغض رکھے وہ میرے بغض کی وجہ سے۔“؟ تو انہوں نے کہا: جو ملک چاہو چن لو، کیونکہ تم حضرموت واپس نہیں جاؤ گے۔ میں نے کہا: میرا قبیلہ شام میں ہے اور میرے اہلِ خانہ کوفہ میں ہیں۔ انہوں نے کہا: تمہارے اہلِ خانہ کا ایک آدمی تمہارے قبیلے کے دس آدمیوں سے بہتر ہے۔ میں نے کہا: میں حضرموت اس کی خوشی کی وجہ سے واپس نہیں گیا تھا، اور مہاجر کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس جگہ واپس جائے جہاں سے اس نے ہجرت کی تھی، سوائے کسی عذر کے۔ انہوں نے کہا: تمہارا عذر کیا تھا؟ میں نے کہا: فتنوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان: ”جہاں تم اختلاف کرو وہاں سے ہم کنارہ کش رہیں گے، اور جہاں تم متفق ہو جاؤ وہاں ہم تمہارے پاس آئیں گے“ - یہی وہ عذر ہے۔ تو انہوں نے کہا: میں نے تمہیں کوفہ کا والی بنا دیا ہے، وہاں چلے جاؤ۔ میں نے کہا: نبی کریم ﷺ کے بعد کسی کی ماتحتی میرے لیے مناسب نہیں، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے چاہا تو میں نے انکار کیا، اور عمر رضی اللہ عنہ نے چاہا تو میں نے انکار کیا، اور عثمان رضی اللہ عنہ نے چاہا تو میں نے انکار کیا، اور میں نے ان کی بیعت نہیں چھوڑی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا خط آیا تھا جب ہمارے علاقے کے لوگ مرتد ہو گئے تھے، تو میں ان میں کھڑا ہوا یہاں تک کہ اللہ نے انہیں بغیر کسی حکومتی عہدے کے اسلام کی طرف واپس لوٹا دیا۔ پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن ام الحکم کو بلایا اور اس سے کہا: چلے جاؤ، میں نے تمہیں کوفہ کا والی بنا دیا ہے، اور وائل بن حجر کو بھی ساتھ لے جاؤ، اس کی عزت کرنا اور اس کی ضروریات پوری کرنا۔ اس نے کہا: اے امیر المومنین! آپ نے میرے بارے میں بدگمانی کی، آپ مجھے ایک ایسے شخص کی عزت کرنے کا حکم دیتے ہیں جسے میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے، اور خود آپ نے بھی عزت دی؟ انہوں نے کہا: تو اسی بات کو جانتے ہوئے چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ اس کے ساتھ کوفہ آ گئے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ يَحْيَى، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: " حَضَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَأَكْفَأَ عَلَى يَمِينِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَمَسَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَاءِ فَأَفَاضَ بِهَا عَلَى الْيُسْرَى ثَلَاثًا، ثُمَّ غَمَسَ الْيُمْنَى فِي الْمَاءِ فَحَفَنَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَتَمَضْمَضَ بِهَا واسْتَنْشَقَ، واسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّيْهِ فِي الْإِنَاءِ فَحَمَلَ بِهِمَا مَاءً فَغَسَلَ، وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ، وَمَسَحَ بَاطِنَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَ خِنْصَرَهُ فِي دَاخِلِ أُذُنِهِ، لِيُبَلِّغَ الْمَاءَ، ثُمَّ مَسَحَ رَقَبَتَهُ، وَبَاطِنَ لِحْيَتَهُ مِنْ فَضْلِ مَاءِ الْوَجْهِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا حَتَّى مَا وَرَاءَ الْمِرْفَقِ، وَغَسَلَ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ بِالْيُمْنَى حَتَّى جَاوَزَ الْمِرْفَقَ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ ظَاهَرَ أُذُنَيْهِ، وَمَسَحَ رُقْبَتَهُ وَبَاطِنَ لِحْيَتَهُ بِفَضْلِ مَاءِ الرَّأْسِ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، وَخَلِّلَ أَصَابِعَهَا وَجَاوَزَ بِالْمَاءِ الْكَعْبَ، وَرَفَعَ فِي السَّاقِ الْمَاءَ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ بِيَدِهِ الْيُمْنَى فَوَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى تَحَدَّرَ مِنْ جَوَانِبِ رَأْسِهِ وَقَالَ: «هَذَا تَمَامُ الْوُضُوءِ» فَدَخَلَ مِحْرَابَهُ فَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ، وَنَظَرَ عَنْ يَمِينِهِ وَيَسارِهِ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ بِالتَّكْبِيرِ إِلَى أَنْ حَازَتَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى يَسَارِهِ عَلَى صَدْرِهِ، ثُمَّ جَهَرَ بِالْحَمْدِ حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْحَمْدِ، ثُمَّ جَهَرَ بِآمِينَ عِنْدَ فَرَاغِهِ مِنْ قِرَاءَةِ الْحَمْدِ حَتَّى سَمِعَ مَنْ خَلْفَهُ، ثُمَّ قَرَأَ سُورَةً أُخْرَى مَعَ الْحَمْدِ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ بِالتَّكْبِيرِ إِلَى أَنْ حَازَتَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ انْحَطَّ رَاكِعًا فَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَفَرَّجَ أَصَابِعَهُ، وَأَمْهَلَ فِي الرُّكُوعِ حَتَّى اعْتَدَلَ رُكُوعُهُ وَصَارَ مُتَنَاهُ كَأَنَّهُمَا نَهَرٌ جَارٍ لَوْ وُضِعَ عَلَيْهِ قَدَحٌ مَلْآنُ مَا انْكَفَأَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ بِالْخُشُوعِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَازَتَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ثُمَّ اعْتَدَلَ قَائِمًا وأَمْهَلَ فِيهِ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ انْحَطَّ بِالتَّكْبِيرِ سَاجِدًا فَأَثْبَتَ جَبْهَتَهُ فِي الْأَرْضِ وَأَنْفَهُ حَتَّى رَأَى أَثَرَ أَنْفِهِ فِي الرَّمْلِ، وَفَرَشَ ذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ بِالتَّكْبِيرِ، وَجَلَسَ جِلْسَةً خَفِيفَةً فَاسْتَبْطَنَ فَخِذَهُ الْيُسْرَى وَنَصَبَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى أَثْبَتَ أَصَابِعَهُمَا، ثُمَّ انْحَطَّ سَاجِدًا مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ بِالتَّكْبِيرِ، ثُمَّ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَمَّتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ جَلَسَ فِي التَّشَهُّدِ فَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَخَفَضَ فَخِذَهُ وَحَلَّقَ أُصْبُعَهُ يَدْعُو بِهِ مِنْ تَحْتِ الثَّوْبِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي الشِّتَاءِ، وَكَانَ أَصْحَابُهُ خَلْفَهُ أَيْدِيهِمْ فِي ثِيَابِهِمْ يَعْمَلُونَ هَذَا وَتَنَفَّلَ، ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ حَتَّى رُؤِيَ بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رُؤِيَ بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْسَرِ "
ترجمہ
...اور پنڈلی پر پانی چڑھایا، پھر بائیں پاؤں میں بھی ایسا ہی کیا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے پانی کی ایک چُلو لی اور اپنے سر پر ڈالی یہاں تک کہ وہ اپنے سر کے کناروں سے بہہ نکلا، اور فرمایا: ”یہ وضو کی تکمیل ہے۔“ پھر آپ ﷺ اپنے محراب میں داخل ہوئے، لوگوں نے آپ ﷺ کے پیچھے صف باندھی، آپ ﷺ نے اپنی دائیں اور بائیں طرف دیکھا، پھر تکبیر کہتے ہوئے اپنے ہاتھ اس طرح اٹھائے کہ وہ کانوں کی لو تک پہنچ گئے، پھر اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر سینے پر رکھا، پھر بلند آواز سے سورۃ الفاتحہ پڑھی یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوئے، پھر سورۃ الفاتحہ کی قراءت مکمل کرتے وقت بلند آواز سے ”آمین“ کہی یہاں تک کہ جو پیچھے تھے انہوں نے سن لیا، پھر فاتحہ کے ساتھ ایک اور سورت پڑھی، پھر تکبیر کہتے ہوئے اپنے ہاتھ اس طرح اٹھائے کہ کانوں کی لو تک پہنچ گئے، پھر رکوع میں جھکے تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھیں اور اپنی انگلیاں کھلی رکھیں، اور رکوع میں ٹھہراؤ کیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کا رکوع معتدل ہو گیا اور آپ ﷺ کی پیٹھ ایسی ہو گئی گویا وہ بہتا ہوا پانی ہو، اگر اس پر پانی سے بھرا پیالہ رکھا جاتا تو نہ گرتا۔ پھر خشوع کے ساتھ اپنا سر اٹھایا اور اپنے ہاتھ اس طرح اٹھائے کہ کانوں کی لو تک پہنچ گئے، اور فرمایا: ”سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ“، پھر کھڑے ہو کر معتدل ہوئے اور اتنا ٹھہرے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آ گئی، پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں گئے اور اپنی پیشانی اور ناک زمین پر جما دی، یہاں تک کہ ریت میں ان کی ناک کا نشان دیکھا گیا، اور اپنے بازو زمین پر بچھائے اور اپنا سر ان کے درمیان رکھا، پھر تکبیر کہتے ہوئے اپنا سر اٹھایا، اور ہلکا سا بیٹھے تو اپنی بائیں ران کے نیچے بایاں پاؤں رکھا اور اپنا دایاں پاؤں کھڑا کیا اور اس کی انگلیاں جما دیں، پھر اسی طرح دوبارہ سجدہ کیا، پھر تکبیر کہتے ہوئے اپنا سر اٹھایا، پھر پوری نماز میں اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ چار رکعتیں مکمل ہو گئیں، پھر تشہد میں بیٹھے تو اپنی دائیں ہتھیلی اپنے دائیں گھٹنے پر رکھی اور اپنی ران نیچی کی، اور اپنی انگلی سے حلقہ بنا کر کپڑے کے نیچے سے اس کے ساتھ دعا کی، اور یہ سردی کا موسم تھا، اور آپ ﷺ کے صحابہ آپ ﷺ کے پیچھے اپنے ہاتھ اپنے کپڑوں میں رکھے یہی کر رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے نفل پڑھی، پھر دائیں طرف سلام پھیرا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دائیں رخسار کی سفیدی نظر آئی، پھر بائیں طرف سلام پھیرا یہاں تک کہ بائیں رخسار کی سفیدی نظر آئی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَهْلِي، عَنْ أَبِي قَالَ: «أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَشَرِبَ، ثُمَّ مَجَّ فِي الدَّلْوِ، ثُمَّ صَبَّ فِي الْبِئْرِ أَوْ شَرِبَ مِنَ الدَّلْوِ، ثُمَّ مَجَّ فِي الْبِئْرِ، فَفَاحَ مِنْهَا مِثْلُ رِيحِ الْمِسْكِ»
ترجمہ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبدالجبار، اپنے گھر والوں کے واسطے سے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس پانی کا ایک ڈول لایا گیا، آپ ﷺ نے اس سے پیا، پھر ڈول میں کلی کی، پھر اسے کنویں میں انڈیل دیا - یا ڈول سے پیا، پھر کنویں میں کلی کی - تو اس سے مشک جیسی خوشبو پھوٹ پڑی۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ «رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِدَلْوٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ فَمَضْمَضَ، ثُمَّ مَجَّ فِيهِ الْمِسْكَ، أَوْ أَطْيَبَ مِنَ الْمِسْكِ، وَاسْتَنْثَرَ خَارِجَهُ»
ترجمہ
سیدنا وائل رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبدالجبار، اپنے بعض گھر والوں کے واسطے سے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک ڈول لایا گیا تو آپ ﷺ نے اس سے وضو کیا، کلی کی، پھر اس میں مشک - یا مشک سے بھی زیادہ خوشبودار چیز - کی کلی ڈالی، اور اس کے باہر ناک صاف کی۔