المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أم يحيى امرأة وائل بن حجر، عن وائل بن حجر باب: ام یحییٰ، سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی زوجہ، کی ان سے روایت
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ يَحْيَى، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: " حَضَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَأَكْفَأَ عَلَى يَمِينِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَمَسَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَاءِ فَأَفَاضَ بِهَا عَلَى الْيُسْرَى ثَلَاثًا، ثُمَّ غَمَسَ الْيُمْنَى فِي الْمَاءِ فَحَفَنَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَتَمَضْمَضَ بِهَا واسْتَنْشَقَ، واسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّيْهِ فِي الْإِنَاءِ فَحَمَلَ بِهِمَا مَاءً فَغَسَلَ، وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ، وَمَسَحَ بَاطِنَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَ خِنْصَرَهُ فِي دَاخِلِ أُذُنِهِ، لِيُبَلِّغَ الْمَاءَ، ثُمَّ مَسَحَ رَقَبَتَهُ، وَبَاطِنَ لِحْيَتَهُ مِنْ فَضْلِ مَاءِ الْوَجْهِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا حَتَّى مَا وَرَاءَ الْمِرْفَقِ، وَغَسَلَ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ بِالْيُمْنَى حَتَّى جَاوَزَ الْمِرْفَقَ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ ظَاهَرَ أُذُنَيْهِ، وَمَسَحَ رُقْبَتَهُ وَبَاطِنَ لِحْيَتَهُ بِفَضْلِ مَاءِ الرَّأْسِ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، وَخَلِّلَ أَصَابِعَهَا وَجَاوَزَ بِالْمَاءِ الْكَعْبَ، وَرَفَعَ فِي السَّاقِ الْمَاءَ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ بِيَدِهِ الْيُمْنَى فَوَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى تَحَدَّرَ مِنْ جَوَانِبِ رَأْسِهِ وَقَالَ: «هَذَا تَمَامُ الْوُضُوءِ» فَدَخَلَ مِحْرَابَهُ فَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ، وَنَظَرَ عَنْ يَمِينِهِ وَيَسارِهِ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ بِالتَّكْبِيرِ إِلَى أَنْ حَازَتَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى يَسَارِهِ عَلَى صَدْرِهِ، ثُمَّ جَهَرَ بِالْحَمْدِ حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْحَمْدِ، ثُمَّ جَهَرَ بِآمِينَ عِنْدَ فَرَاغِهِ مِنْ قِرَاءَةِ الْحَمْدِ حَتَّى سَمِعَ مَنْ خَلْفَهُ، ثُمَّ قَرَأَ سُورَةً أُخْرَى مَعَ الْحَمْدِ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ بِالتَّكْبِيرِ إِلَى أَنْ حَازَتَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ انْحَطَّ رَاكِعًا فَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَفَرَّجَ أَصَابِعَهُ، وَأَمْهَلَ فِي الرُّكُوعِ حَتَّى اعْتَدَلَ رُكُوعُهُ وَصَارَ مُتَنَاهُ كَأَنَّهُمَا نَهَرٌ جَارٍ لَوْ وُضِعَ عَلَيْهِ قَدَحٌ مَلْآنُ مَا انْكَفَأَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ بِالْخُشُوعِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَازَتَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ثُمَّ اعْتَدَلَ قَائِمًا وأَمْهَلَ فِيهِ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ انْحَطَّ بِالتَّكْبِيرِ سَاجِدًا فَأَثْبَتَ جَبْهَتَهُ فِي الْأَرْضِ وَأَنْفَهُ حَتَّى رَأَى أَثَرَ أَنْفِهِ فِي الرَّمْلِ، وَفَرَشَ ذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ بِالتَّكْبِيرِ، وَجَلَسَ جِلْسَةً خَفِيفَةً فَاسْتَبْطَنَ فَخِذَهُ الْيُسْرَى وَنَصَبَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى أَثْبَتَ أَصَابِعَهُمَا، ثُمَّ انْحَطَّ سَاجِدًا مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ بِالتَّكْبِيرِ، ثُمَّ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَمَّتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ جَلَسَ فِي التَّشَهُّدِ فَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَخَفَضَ فَخِذَهُ وَحَلَّقَ أُصْبُعَهُ يَدْعُو بِهِ مِنْ تَحْتِ الثَّوْبِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي الشِّتَاءِ، وَكَانَ أَصْحَابُهُ خَلْفَهُ أَيْدِيهِمْ فِي ثِيَابِهِمْ يَعْمَلُونَ هَذَا وَتَنَفَّلَ، ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ حَتَّى رُؤِيَ بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رُؤِيَ بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْسَرِ "سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ ﷺ کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا۔ آپ ﷺ نے تین بار (پانی کو) اپنے دائیں ہاتھ پر انڈیلا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈبویا اور اس سے تین بار بائیں ہاتھ پر پانی بہایا، پھر دایاں ہاتھ پانی میں ڈبو کر ایک چُلو پانی لیا اور اس سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، اور تین بار ناک جھاڑی، پھر اپنی دونوں ہتھیلیاں برتن میں ڈال کر ان سے پانی اٹھایا اور اپنا چہرہ تین بار دھویا، اور اپنی داڑھی میں انگلیاں پھیریں (خلال کیا)، اور اپنے دونوں کانوں کا اندرونی حصہ مسح کیا، پھر اپنی چھنگلیا انگلی اپنے کان کے اندر داخل کی تاکہ پانی وہاں تک پہنچ جائے، پھر چہرے کے بچے ہوئے پانی سے اپنی گردن اور داڑھی کا اندرونی حصہ مسح کیا، اور اپنا دایاں بازو کہنی سے آگے تک تین بار دھویا، اور اسی طرح بایاں بازو دائیں ہاتھ سے دھویا یہاں تک کہ کہنی سے آگے تک پہنچا، پھر اپنے سر کا تین بار مسح کیا، اور اپنے دونوں کانوں کا ظاہری حصہ مسح کیا، اور سر کے بچے ہوئے پانی سے گردن اور داڑھی کا اندرونی حصہ مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں تین بار دھویا اور اس کی انگلیوں کا خلال کیا اور پانی کو ٹخنے سے آگے تک پہنچایا، اور پنڈلی پر پانی چڑھایا، پھر بائیں پاؤں میں بھی ایسا ہی کیا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے پانی کی ایک چُلو لی اور اپنے سر پر ڈالی یہاں تک کہ وہ اپنے سر کے کناروں سے بہہ نکلا، اور فرمایا: ”یہ وضو کی تکمیل ہے۔“ پھر آپ ﷺ اپنے محراب میں داخل ہوئے، لوگوں نے آپ ﷺ کے پیچھے صف باندھی، آپ ﷺ نے اپنی دائیں اور بائیں طرف دیکھا، پھر تکبیر کہتے ہوئے اپنے ہاتھ اس طرح اٹھائے کہ وہ کانوں کی لو تک پہنچ گئے، پھر اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر سینے پر رکھا، پھر بلند آواز سے سورۃ الفاتحہ پڑھی یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوئے، پھر سورۃ الفاتحہ کی قراءت مکمل کرتے وقت بلند آواز سے ”آمین“ کہی یہاں تک کہ جو پیچھے تھے انہوں نے سن لیا، پھر فاتحہ کے ساتھ ایک اور سورت پڑھی، پھر تکبیر کہتے ہوئے اپنے ہاتھ اس طرح اٹھائے کہ کانوں کی لو تک پہنچ گئے، پھر رکوع میں جھکے تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھیں اور اپنی انگلیاں کھلی رکھیں، اور رکوع میں ٹھہراؤ کیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کا رکوع معتدل ہو گیا اور آپ ﷺ کی پیٹھ ایسی ہو گئی گویا وہ بہتا ہوا پانی ہو، اگر اس پر پانی سے بھرا پیالہ رکھا جاتا تو نہ گرتا۔ پھر خشوع کے ساتھ اپنا سر اٹھایا اور اپنے ہاتھ اس طرح اٹھائے کہ کانوں کی لو تک پہنچ گئے، اور فرمایا: ”سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ“، پھر کھڑے ہو کر معتدل ہوئے اور اتنا ٹھہرے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آ گئی، پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں گئے اور اپنی پیشانی اور ناک زمین پر جما دی، یہاں تک کہ ریت میں ان کی ناک کا نشان دیکھا گیا، اور اپنے بازو زمین پر بچھائے اور اپنا سر ان کے درمیان رکھا، پھر تکبیر کہتے ہوئے اپنا سر اٹھایا، اور ہلکا سا بیٹھے تو اپنی بائیں ران کے نیچے بایاں پاؤں رکھا اور اپنا دایاں پاؤں کھڑا کیا اور اس کی انگلیاں جما دیں، پھر اسی طرح دوبارہ سجدہ کیا، پھر تکبیر کہتے ہوئے اپنا سر اٹھایا، پھر پوری نماز میں اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ چار رکعتیں مکمل ہو گئیں، پھر تشہد میں بیٹھے تو اپنی دائیں ہتھیلی اپنے دائیں گھٹنے پر رکھی اور اپنی ران نیچی کی، اور اپنی انگلی سے حلقہ بنا کر کپڑے کے نیچے سے اس کے ساتھ دعا کی، اور یہ سردی کا موسم تھا، اور آپ ﷺ کے صحابہ آپ ﷺ کے پیچھے اپنے ہاتھ اپنے کپڑوں میں رکھے یہی کر رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے نفل پڑھی، پھر دائیں طرف سلام پھیرا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دائیں رخسار کی سفیدی نظر آئی، پھر بائیں طرف سلام پھیرا یہاں تک کہ بائیں رخسار کی سفیدی نظر آئی۔