کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوبردہ بن ابی موسیٰ کی سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَا , ثَنَا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: أَكَلْتُ يَوْمًا ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي , فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ شَيْئًا فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ , نَاوِلْنِي يَدَكَ , فَأَدْخَلْتُهَا صَدْرِي فَرَآهُ مَعْصُوبًا فَقَالَ: «إِلَّا مِنْ عُذْرٍ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ایک دن میں نے کھانا کھایا، پھر مسجد میں آیا جبکہ نبی کریم ﷺ نماز پڑھا رہے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نماز مکمل کی تو فرمایا: ”جو شخص اس درخت (لہسن وغیرہ) میں سے کچھ کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اپنا ہاتھ مجھے دیجیے۔“ چنانچہ میں نے آپ ﷺ کا ہاتھ (قمیص کے اندر) اپنے سینے میں داخل کیا تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ وہ پٹی بندھا ہوا ہے، تو فرمایا: ”سوائے اس کے جسے کوئی عذر ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَعَمْرِو بْنِ صَالِحٍ وَحُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ رِيحَ ثُومٍ فَقَالَ: «فَمَنْ هَذَا؟» قَالَ: الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ , أَعْزِمُ عَلَيْكَ أَوْ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ لَمَا أَدْخَلْتَ يَدَكَ , فَإِذَا عَلَى صَدْرِه حِزَامٌ , قَالَ: «أَرَى لَكَ عُذْرًا»
ترجمہ
ابوبردہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے لہسن کی بو محسوس کی تو فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ (سیدنا) مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”(میں ہوں)، اے اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ اپنا ہاتھ (میرے سینے میں) ضرور ڈالیں۔“ تو ان کے سینے پر ایک پٹی بندھی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے پاس عذر ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ النَّسَوِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ رُدَيْحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: آخِرُ غَزَاةٍ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى خِفَافِنَا: «لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ , وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ مَا لَمْ يَخْلَعْ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو آخری غزوہ لڑا، اس میں آپ ﷺ نے ہمیں اپنے موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا: ”مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات، جب تک وہ انہیں اتار نہ دے۔“