حدیث نمبر: 18127
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَا , ثَنَا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: أَكَلْتُ يَوْمًا ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي , فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ شَيْئًا فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ , نَاوِلْنِي يَدَكَ , فَأَدْخَلْتُهَا صَدْرِي فَرَآهُ مَعْصُوبًا فَقَالَ: «إِلَّا مِنْ عُذْرٍ»
ترجمہ

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ایک دن میں نے کھانا کھایا، پھر مسجد میں آیا جبکہ نبی کریم ﷺ نماز پڑھا رہے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نماز مکمل کی تو فرمایا: ”جو شخص اس درخت (لہسن وغیرہ) میں سے کچھ کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اپنا ہاتھ مجھے دیجیے۔“ چنانچہ میں نے آپ ﷺ کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ وہ پٹی بندھا ہوا ہے، تو فرمایا: ”مگر کسی عذر کی وجہ سے (کھانا جائز ہے)۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 18127
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 417، حدیث 1003