کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبید بن نضیلہ خزاعی کی سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: ضَرَبَتْ ضَرَّةٌ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا، فَقُضِي بِدِيَتِهَا عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ، وَبِمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةً، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: أَتُغَرِّمُنِي مَنْ لَا طَعِمَ وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ؟» زَادَ أَبُو حُذَيْفَةَ فِي حَدِيثِهِ: وَقُضِي فِيمَا فِي بَطْنِهَا بِغُرَّةٍ
ترجمہ
…اور جو اس (عورت) کے پیٹ میں تھا اس کے بارے میں ایک غلام (غرہ) کا فیصلہ کیا گیا۔ اس پر ایک دیہاتی نے کہا: ”کیا آپ مجھ پر اس (بچے) کا تاوان ڈالتے ہیں جس نے نہ کھایا نہ پیا، نہ چیخا نہ رویا، ایسی چیز تو یونہی رہ جاتی ہے (اس کا کوئی تاوان نہیں)؟“ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ دیہاتیوں جیسی شاعرانہ تک بندی ہے؟“
ابوحذیفہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے: ”اور اس کے پیٹ میں جو تھا اس کے بارے میں ایک غلام (غرہ) کا فیصلہ کیا گیا۔“
ابوحذیفہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے: ”اور اس کے پیٹ میں جو تھا اس کے بارے میں ایک غلام (غرہ) کا فیصلہ کیا گیا۔“
حَدَّثَنَا دَرَّانُ بْنُ سُفْيَانَ الْقَطَّانُ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَانَ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ امْرَأَتَانِ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِفِهْرٍ أَوْ بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأَسْقَطَتْ، فَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ، فَقَالَ أَوْلِيَاؤُهَا: كَيْفَ نَدِي مَنْ لَا صَاحَ وَلَا اسْتَهَلَّ، وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ؟» وَقَضَى بِعَقْلِهِ عَلَى أَوْلِيَاءِ الْمَرْأَةِ
ترجمہ
…تو اس (میتہ عورت) کے وارثوں نے کہا: ”ہم اس (بچے) کا تاوان کیسے ادا کریں جو نہ چیخا نہ رویا، نہ پیا نہ کھایا؟ ایسی چیز تو یونہی رہ جاتی ہے (اس کا کوئی تاوان نہیں)؟“ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ دیہاتیوں جیسی شاعرانہ تک بندی ہے؟“ اور آپ ﷺ نے اس (بچے) کا تاوان عورت (قاتلہ) کے وارثوں پر لازم قرار دیا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى أَبُو الْمُحَيَّاةِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ أَبِي حَرْبٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔