حدیث نمبر: 18102
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: ضَرَبَتْ ضَرَّةٌ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا، فَقُضِي بِدِيَتِهَا عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ، وَبِمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةً، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: أَتُغَرِّمُنِي مَنْ لَا طَعِمَ وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ؟» زَادَ أَبُو حُذَيْفَةَ فِي حَدِيثِهِ: وَقُضِي فِيمَا فِي بَطْنِهَا بِغُرَّةٍ
ترجمہ

…اور جو اس (عورت) کے پیٹ میں تھا اس کے بارے میں ایک غلام (غرہ) کا فیصلہ کیا گیا۔ اس پر ایک دیہاتی نے کہا: ”کیا آپ مجھ پر اس (بچے) کا تاوان ڈالتے ہیں جس نے نہ کھایا نہ پیا، نہ چیخا نہ رویا، ایسی چیز تو یونہی رہ جاتی ہے (اس کا کوئی تاوان نہیں)؟“ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ دیہاتیوں جیسی شاعرانہ تک بندی ہے؟“
ابوحذیفہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے: ”اور اس کے پیٹ میں جو تھا اس کے بارے میں ایک غلام (غرہ) کا فیصلہ کیا گیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 18102
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 409، حدیث 978