المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبيد بن نضيلة الخزاعي، عن المغيرة بن شعبة باب: عبید بن نضیلہ خزاعی کی سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 18103
حَدَّثَنَا دَرَّانُ بْنُ سُفْيَانَ الْقَطَّانُ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَانَ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ امْرَأَتَانِ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِفِهْرٍ أَوْ بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأَسْقَطَتْ، فَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ، فَقَالَ أَوْلِيَاؤُهَا: كَيْفَ نَدِي مَنْ لَا صَاحَ وَلَا اسْتَهَلَّ، وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ؟» وَقَضَى بِعَقْلِهِ عَلَى أَوْلِيَاءِ الْمَرْأَةِترجمہ
…تو اس (میتہ عورت) کے وارثوں نے کہا: ”ہم اس (بچے) کا تاوان کیسے ادا کریں جو نہ چیخا نہ رویا، نہ پیا نہ کھایا؟ ایسی چیز تو یونہی رہ جاتی ہے (اس کا کوئی تاوان نہیں)؟“ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ دیہاتیوں جیسی شاعرانہ تک بندی ہے؟“ اور آپ ﷺ نے اس (بچے) کا تاوان عورت (قاتلہ) کے وارثوں پر لازم قرار دیا۔