حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَخْبَرَنِي وَرَّادٌ، كَاتَبُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ دُبُرَ الصَّلَاةِ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»
ترجمہ
وراد، سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے کاتب، کہتے ہیں: سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ نبی کریم ﷺ نماز کے بعد فرمایا کرتے تھے: ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، كَاتَبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الْمُغِيرَةِ: أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَعَوَّذُ مِنْ ثَلَاثٍ: مِنْ عُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ، وَمِنْ وَأْدِ الْبَنَاتِ، وَمِنْ مَنَعَ وَهَاتِ «، وَسَمِعْتُهُ» نَهَى عَنْ ثَلَاثٍ: عَنْ قِيلَ وَقَالَ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ "، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»
ترجمہ
مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو تین چیزوں سے پناہ مانگتے سنا: ماؤں کی نافرمانی سے، بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے سے، اور نہ دینے اور مانگتے رہنے سے، اور میں نے آپ ﷺ کو تین چیزوں سے منع کرتے سنا: بے سروپا باتیں کرنے سے، مال ضائع کرنے سے، اور بکثرت سوال کرنے سے، اور میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے بھی سنا: ”اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور کسی بزرگی والے کو اس کی بزرگی تیرے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دیتی۔“
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ مَعْمَرٍ
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ رسول اللہ ﷺ جب سلام پھیرتے تو فرماتے: ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور کسی بزرگی والے کو اس کی بزرگی تیرے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دیتی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ دُبُرَ الصَّلَاةِ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمَلِكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»
ترجمہ
وراد کہتے ہیں: سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے بعد فرمایا کرتے تھے: ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور کسی بزرگی والے کو اس کی بزرگی تیرے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دیتی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، كَاتَبِ الْمُغِيرَةِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ، كَتَبَ إِلَى الْمُغِيرَةِ: أَنِ أَكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ، وَعَنْ عُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ، وَوَأْدِ الْبَنَاتِ، وَمَنَعَ وَهَاتِ»
ترجمہ
وراد، سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے کاتب، بیان کرتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: مجھے کوئی ایسی بات لکھ بھیجو جو تم نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، تو انہوں نے انہیں لکھا: رسول اللہ ﷺ نے بے سروپا باتیں کرنے، بکثرت سوال کرنے، مال ضائع کرنے، ماؤں کی نافرمانی، بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے، اور نہ دینے اور مانگتے رہنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَأَبُو خَلِيفَةَ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَعِنْدَهُ ابْنُ أَبِي لُبَابَةَ، سَمِعَا وَرَّادًا، كَاتَبَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ: اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»
ترجمہ
معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: مجھے کوئی ایسی بات لکھ بھیجو جو تم نے رسول اللہ ﷺ سے نماز کے بعد فرماتے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ اپنی نماز کے بعد فرمایا کرتے تھے: ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور کسی بزرگی والے کو اس کی بزرگی تیرے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دیتی۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ يَحْيَى الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ،
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ دُبُرَ الصَّلَاةِ إِذَا سَلَّمَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سلام پھیرنے کے بعد نماز کے آخر میں فرمایا کرتے تھے: ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور کسی بزرگی والے کو اس کی بزرگی تیرے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دیتی۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ: أَنِ أَكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ بِخَطِّي: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنَ الصَّلَاةِ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»
وَكَتَبَ إِلَيْهِ فِي الْكِتَابِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ تَعَالَى كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: وَأْدَ الْبَنَاتِ، وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ، وَمَنَعَ وَهَاتِ «، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ»
وَكَتَبَ إِلَيْهِ فِي الْكِتَابِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ تَعَالَى كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: وَأْدَ الْبَنَاتِ، وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ، وَمَنَعَ وَهَاتِ «، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ»
ترجمہ
معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: مجھے کوئی ایسی بات لکھ بھیجو جو تم نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر بھیجا: رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوتے وقت فرمایا کرتے تھے: ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور کسی بزرگی والے کو اس کی بزرگی تیرے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دیتی۔“
اور اسی خط میں یہ بھی لکھا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین چیزیں ناپسند فرمائی ہیں: بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا، ماؤں کی نافرمانی، اور نہ دینا اور مانگتے رہنا۔“ اور آپ ﷺ بے سروپا باتیں کرنے، بکثرت سوال کرنے، اور مال ضائع کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔
اور اسی خط میں یہ بھی لکھا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین چیزیں ناپسند فرمائی ہیں: بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا، ماؤں کی نافرمانی، اور نہ دینا اور مانگتے رہنا۔“ اور آپ ﷺ بے سروپا باتیں کرنے، بکثرت سوال کرنے، اور مال ضائع کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ الْكُوفِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَالْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، كَاتَبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ؟ فَوَاللهِ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْ سَعْدٍ، وَاللهُ أَغْيَرُ مِنِّي، وَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهْرَ وَمَا بَطْنَ مِنْهَا، وَلَا شَخَصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ رُسُلَهُ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ، وَلَا شَخَصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمِنْ ذَلِكَ وَعَدَ الْجَنَّةَ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ أَبِي الْوَلِيدِ
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو دیکھوں تو اسے تلوار سے مار دوں۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں سعد کی غیرت پر تعجب ہے؟ اللہ کی قسم! میں سعد سے بھی زیادہ غیرت مند ہوں، اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہے، اور اسی وجہ سے اس نے بےحیائی کے کاموں کو - ظاہر ہوں یا پوشیدہ - حرام کیا ہے۔ اور اللہ عزوجل سے زیادہ کوئی عذر پسند کرنے والا نہیں، اسی وجہ سے اس نے اپنے رسولوں کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، اور اللہ عزوجل سے زیادہ کوئی تعریف پسند کرنے والا نہیں، اور اسی وجہ سے اس نے جنت کا وعدہ فرمایا۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ يَقُولُ: لَوْ وَجَدْتُ مَعَهَا رَجُلًا لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفِحٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ؟ فَوَاللهِ» . . فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کو یہ بات پہنچی کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں: اگر میں اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پاؤں تو اسے تلوار کی دھار سے مار دوں، چوڑی طرف سے نہیں۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں سعد کی غیرت پر تعجب ہے؟ اللہ کی قسم! میں اس سے بھی زیادہ غیرت مند ہوں، اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہے، اور اسی وجہ سے اس نے بےحیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے، اور اللہ سے زیادہ کوئی عذر پسند کرنے والا نہیں، اسی وجہ سے اس نے اپنے رسولوں کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، اور اللہ سے زیادہ کوئی تعریف پسند کرنے والا نہیں، اور اسی وجہ سے اس نے جنت کا وعدہ فرمایا۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَا: ثنا الْحَكَمُ بْنُ هِشَامٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى عُنُقِ رَاحِلَتِي، ثُمَّ قَالَ: «مَعَكَ مَاءٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، هَذِهِ سَطِيحَةٌ مِنْ مَاءٍ مَعِي، قَالَ: «فَذَرْهَا» ، ثُمَّ نَزَلَ فَقَضَى الْحَاجَةَ ثُمَّ أَتَانِي فَقَالَ: «أَتُرِيدُ الْحَاجَةَ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ، وَكَانَتْ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ ضَيِّقَةٌ، لَمْ يَقْدِرْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، ثُمَّ سِرْنَا فَلَحِقْنَا الْقَوْمَ يُصَلِّي بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُوذِنَهُ لِمَكَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنَعَنِي، فَصَلَّيْنَا مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ قَضَيْنَا الثَّانِيَةَ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عَمَّارٍ
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں چل رہے تھے، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میری سواری کی گردن پر مارا، پھر فرمایا: ”کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یہ ایک چمڑے کا برتن پانی کا میرے پاس ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو۔“ پھر آپ ﷺ اترے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر میرے پاس آئے اور فرمایا: ”کیا تمہیں حاجت کی ضرورت ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ تین بار دھوئے، تین بار کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنے بازو نکالنے کا ارادہ کیا، اور آپ ﷺ نے اون کا ایک تنگ جبہ پہن رکھا تھا، آپ ﷺ اس میں سے اپنے بازو نہ نکال سکے، تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ جبے کے نیچے سے نکالے، پھر اپنے بازو تین تین بار دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا اور موزوں پر مسح فرمایا، پھر ہم آگے بڑھے اور لوگوں کو جا ملے، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے، میں نے نبی کریم ﷺ کی موجودگی کی خبر دینا چاہی تو آپ ﷺ نے مجھے روک دیا، چنانچہ ہم نے ان کے ساتھ ایک رکعت پڑھی، پھر دوسری رکعت خود پوری کی۔