حدیث نمبر: 18045
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، كَاتَبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ؟ فَوَاللهِ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْ سَعْدٍ، وَاللهُ أَغْيَرُ مِنِّي، وَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهْرَ وَمَا بَطْنَ مِنْهَا، وَلَا شَخَصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ رُسُلَهُ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ، وَلَا شَخَصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمِنْ ذَلِكَ وَعَدَ الْجَنَّةَ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ أَبِي الْوَلِيدِ
ترجمہ

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو دیکھوں تو اسے تلوار سے مار دوں۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں سعد کی غیرت پر تعجب ہے؟ اللہ کی قسم! میں سعد سے بھی زیادہ غیرت مند ہوں، اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہے، اور اسی وجہ سے اس نے بےحیائی کے کاموں کو - ظاہر ہوں یا پوشیدہ - حرام کیا ہے۔ اور اللہ عزوجل سے زیادہ کوئی عذر پسند کرنے والا نہیں، اسی وجہ سے اس نے اپنے رسولوں کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، اور اللہ عزوجل سے زیادہ کوئی تعریف پسند کرنے والا نہیں، اور اسی وجہ سے اس نے جنت کا وعدہ فرمایا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 18045
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 389، حدیث 921