حدیث نمبر: 18046
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ يَقُولُ: لَوْ وَجَدْتُ مَعَهَا رَجُلًا لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفِحٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ؟ فَوَاللهِ» . . فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ
ترجمہ

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کو یہ بات پہنچی کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں: اگر میں اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پاؤں تو اسے تلوار کی دھار سے مار دوں، چوڑی طرف سے نہیں۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں سعد کی غیرت پر تعجب ہے؟ اللہ کی قسم! میں اس سے بھی زیادہ غیرت مند ہوں، اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہے، اور اسی وجہ سے اس نے بےحیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے، اور اللہ سے زیادہ کوئی عذر پسند کرنے والا نہیں، اسی وجہ سے اس نے اپنے رسولوں کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، اور اللہ سے زیادہ کوئی تعریف پسند کرنے والا نہیں، اور اسی وجہ سے اس نے جنت کا وعدہ فرمایا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 18046
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 389، حدیث 922