المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الملك بن عمير، عن وراد باب: عبدالملک بن عمیر کی وراد سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَا: ثنا الْحَكَمُ بْنُ هِشَامٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى عُنُقِ رَاحِلَتِي، ثُمَّ قَالَ: «مَعَكَ مَاءٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، هَذِهِ سَطِيحَةٌ مِنْ مَاءٍ مَعِي، قَالَ: «فَذَرْهَا» ، ثُمَّ نَزَلَ فَقَضَى الْحَاجَةَ ثُمَّ أَتَانِي فَقَالَ: «أَتُرِيدُ الْحَاجَةَ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ، وَكَانَتْ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ ضَيِّقَةٌ، لَمْ يَقْدِرْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، ثُمَّ سِرْنَا فَلَحِقْنَا الْقَوْمَ يُصَلِّي بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُوذِنَهُ لِمَكَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنَعَنِي، فَصَلَّيْنَا مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ قَضَيْنَا الثَّانِيَةَ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عَمَّارٍسیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں چل رہے تھے، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میری سواری کی گردن پر مارا، پھر فرمایا: ”کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یہ ایک چمڑے کا برتن پانی کا میرے پاس ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو۔“ پھر آپ ﷺ اترے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر میرے پاس آئے اور فرمایا: ”کیا تمہیں حاجت کی ضرورت ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ تین بار دھوئے، تین بار کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنے بازو نکالنے کا ارادہ کیا، اور آپ ﷺ نے اون کا ایک تنگ جبہ پہن رکھا تھا، آپ ﷺ اس میں سے اپنے بازو نہ نکال سکے، تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ جبے کے نیچے سے نکالے، پھر اپنے بازو تین تین بار دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا اور موزوں پر مسح فرمایا، پھر ہم آگے بڑھے اور لوگوں کو جا ملے، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے، میں نے نبی کریم ﷺ کی موجودگی کی خبر دینا چاہی تو آپ ﷺ نے مجھے روک دیا، چنانچہ ہم نے ان کے ساتھ ایک رکعت پڑھی، پھر دوسری رکعت خود پوری کی۔