حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ الشِّبَامِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا فِي غَزَاةٍ وَمَعَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: مُجَاشِعٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، فَعَزَّتِ الْغَنَمُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْجَذَعَةَ تُوَفِّي مِمَّا تُوَفِّي مِنْهُ الثَّنِيَّةُ»
ترجمہ
ایک غزوے میں ہمارے ساتھ نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صحابی تھے جنہیں مجاشع کہا جاتا تھا، بنو سلیم سے تعلق رکھتے تھے، اس دوران بکریاں کم پڑ گئیں تو انہوں نے ایک منادی کو حکم دیا کہ اعلان کرے: بےشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”ایک سال کی جذعہ بکری بھی اسی طرح کافی ہو جاتی ہے جیسے دو سال کی ثنیہ کافی ہوتی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا أَخِي مُجَالِدُ بْنُ مَسْعُودٍ فَبَايِعْهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: «لَا هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَلَكِنْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ»
ترجمہ
سیدنا مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی مجالد بن مسعود ہیں، ان سے ہجرت پر بیعت لیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں رہی، البتہ میں ان سے اسلام پر بیعت لیتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي قَالَا: ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي مُجَاشِعٌ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَخِي مَعْبَدٍ لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: «ذَهَبَ أَهْلُ الْهِجْرَةِ بِمَا فِيهَا» ، فَقُلْتُ: فَعَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ؟ قَالَ: «أُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ - أَوِ الْإِيمَانِ - وَالْجِهَادِ» فَلَقِيتُ مَعْبَدًا بَعْدُ، فَسَأَلْتُهُ - وَكَانَ أَكْبَرَهُمَا - فَقَالَ: صَدَقَ
ترجمہ
سیدنا مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے بھائی معبد کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تاکہ وہ ان سے ہجرت پر بیعت لیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہجرت کرنے والے تو اس کا اجر لے چکے۔“ میں نے عرض کیا: تو پھر آپ انہیں کس چیز پر بیعت لیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں انہیں اسلام - یا ایمان - اور جہاد پر بیعت لیتا ہوں۔“ بعد میں میری ملاقات معبد سے ہوئی، تو میں نے ان سے اس واقعے کی تصدیق پوچھی - وہ دونوں بھائیوں میں بڑے تھے - انہوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ الدَّشْتَكِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث نبی کریم ﷺ سے ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شَيْبَانُ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ الْحَنَفِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا، بَلْ» نُبَايِعُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْهُ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، فَتَكُونُ مِنَ التَّابِعِينَ بِالْإِحْسَانِ "
ترجمہ
سیدنا مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہم اسلام پر بیعت لیں گے، کیونکہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں رہی، پس تم احسان کے ساتھ پہلوں کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہو جاؤ گے۔“