حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ الْفِهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْبَحْرِ فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ؟»
ترجمہ
سیدنا مستورد فہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا آخرت کے مقابلے میں بس ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے، پھر دیکھے کہ وہ کیا لے کر واپس آتی ہے؟“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْبَحْرِ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ إِلَيْهِ؟» فَقَبَضَ لِي عَلَى مِفْصَلَيْنِ مِنَ السَّبَّابَةِ
ترجمہ
سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا آخرت کے مقابلے میں بس ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے، پھر دیکھے کہ وہ اس میں سے کیا لے کر واپس آتی ہے؟“ اور آپ نے میرے سامنے شہادت کی انگلی کے دو جوڑ پکڑ کر اشارہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَادُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، أَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ، أَخِي بَنِي فِهْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي هَذَا الْبَحْرِ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ؟»
ترجمہ
سیدنا مستورد، بنو فہر کے بھائی، رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا آخرت کے مقابلے میں بس ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی اس سمندر میں ڈالے، پھر دیکھے کہ وہ کیا لے کر واپس آتی ہے؟“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ -: «وَاللهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْبَحْرِ، ثُمَّ يُخْرِجُهَا، فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ؟»
ترجمہ
سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو، اپنی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے، یہ فرماتے سنا: ”اللہ کی قسم! دنیا آخرت کے مقابلے میں بس ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے، پھر اسے نکالے، تو دیکھے کہ وہ کیا لے کر واپس آتی ہے؟“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمَا يَمْشِي أَحَدُكُمْ إِلَى الْيَمِّ فَيَدْخُلُ إِصْبَعَهُ»
ترجمہ
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا آخرت کے مقابلے میں بس ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی سمندر کی طرف چلے اور اپنی انگلی اس میں ڈال دے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرٍو الْوَكِيعِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ زُنْبُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ، عَنْ بَيَانَ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَذْهَبُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، حَتَّى يَبْقَى مِثْلُ حُثَالَةِ التَّمْرِ لَا يُبَالِي اللهُ بِهَا»
ترجمہ
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”نیک لوگ ایک کے بعد ایک اٹھائے جاتے رہیں گے، یہاں تک کہ کھجور کی ردی جیسے لوگ باقی رہ جائیں گے، اللہ کو ان کی کوئی پروا نہیں ہو گی۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صُبَيْحٍ الزَّيَّاتُ الْكُوفِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبِي، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَذْهَبُ الصَّالِحُونَ أَسْلَافًا»
ترجمہ
سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نیک لوگ ایک ایک کر کے پہلے چلے جائیں گے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ الْفِهْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهِ النَّقْرَسُ فَشَكَا إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَذَّبَتْكَ الْهَوَاجِرُ»
ترجمہ
سیدنا مستورد فہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، اسے جوڑوں کی بیماری تھی، اس نے آپ سے اس کی شکایت کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں دوپہر کی گرمی میں چلنا پھرنا چھوڑنے نے دھوکہ دیا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ الْفِهْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُدُّوا الْمِخْيَطَ وَالْخَيَّاطَ، مَنْ غَلَّ مِخْيَطًا أَوْ خَيَّاطًا كُلِّفَ أَنْ يَجِيءَ بِهِ وَلَيْسَ بِجَاءٍ»
ترجمہ
سیدنا مستورد فہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سوئی اور دھاگہ بھی واپس کر دو، جس نے سوئی یا دھاگہ مال غنیمت میں سے چرا لیا، اسے قیامت کے دن اسے لانے کا مکلف کیا جائے گا، حالانکہ وہ اسے لا نہیں سکے گا۔“