کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبدالرحمٰن بن ابی عوف جرشی کی سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَذَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، حَدَّثَنِي مَرْوَانُ بْنُ رُؤْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا فَلَمْ يَقْرُوهُ، فَإِنَّ لَهُ أَنْ يَطْلُبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ»
ترجمہ
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی قوم کے پاس مہمان بن کر جائے اور وہ اس کی ضیافت نہ کریں، تو اسے حق ہے کہ اپنی ضیافت کے برابر ان سے وصول کر لے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُ، فَإِنْ لَمْ يَقْرُوهُ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يُعَاقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ»
ترجمہ
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی قوم کے ہاں اترے تو ان پر لازم ہے کہ اس کی ضیافت کریں، اور اگر وہ ضیافت نہ کریں تو اسے حق ہے کہ اپنی ضیافت کے برابر ان سے لے لے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ رُؤْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمَا يَعْدِلُهُ، يُوشِكُ شَبْعَانٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ هَذَا الْكِتَابُ، فَمَا كَانَ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ أَحْلَلْنَاهُ، وَمَا كَانَ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ، أَلَا وَإِنَّهُ لَيْسَ كَذَلِكَ، لَا يَحِلُّ ذُو نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَلَا الْحُمُرُ الْأَهْلِيَّةُ، وَلَا اللُّقَطَةُ مِنَ الْمُعَاهِدِ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا وَلَمْ يَقْرُوهُ فَعَلَيْهِ أَنْ يَغْصِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ "
ترجمہ
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے کتاب اور اس کے برابر ایک اور چیز دی گئی ہے۔ عنقریب ایک آسودہ حال شخص اپنے تخت پر بیٹھ کر کہے گا: ہمارے اور تمہارے درمیان بس یہی کتاب کافی ہے، اس میں جو حلال ہو ہم اسے حلال سمجھیں گے اور جو حرام ہو اسے حرام سمجھیں گے۔ خبردار! معاملہ ایسا نہیں۔ ہر کچلی والے درندے کا گوشت حلال نہیں، اور نہ پالتو گدھے کا، اور نہ کسی معاہد کی گری ہوئی چیز، الا یہ کہ وہ اس سے بے نیاز ہو جائے۔ اور جو شخص کسی قوم کے پاس مہمان بن کر جائے اور وہ اس کی ضیافت نہ کریں، تو اسے حق ہے کہ اپنی ضیافت کے برابر ان سے زبردستی وصول کر لے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ زَيْدٍ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَا: ثنا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ، أَلَا يُوشِكُ شَبْعَانٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ، أَلَا لَا يَحِلُّ لَكُمُ الْحِمَارُ الْأَهْلِيُّ، وَلَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَلَا لُقَطَةُ مُعَاهَدٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا صَاحِبُهَا، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُ "
ترجمہ
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے کتاب اور اس کی مثل ایک اور چیز دی گئی ہے، خبردار! عنقریب ایک آسودہ حال شخص اپنے تخت پر بیٹھ کر کہے گا: تم قرآن ہی کو لازم پکڑو، جو چیز اس میں حلال پاؤ اسے حلال سمجھو اور جو حرام پاؤ اسے حرام سمجھو۔ سن لو! تمہارے لیے پالتو گدھا حلال نہیں، اور نہ ہر کچلی والا درندہ، اور نہ کسی معاہد کی گری ہوئی چیز، الا یہ کہ اس کا مالک اس سے بے نیاز ہو جائے، اور جو شخص کسی قوم کے ہاں اترے تو ان پر لازم ہے کہ اس کی ضیافت کریں۔“